رامپور ۔ ( ذیشان مراد علیگ ) ضلع رامپور 11 بلدیاتی اداروں رامپور ، سوار، ٹانڈہ ، ملک ، بلاسپور میونسپل بورڈ اور شاہ آباد ، کیمری ، مسواسی ، سیفنی ، دڑھیال و نرپت نگر دونداوالہ نگر پنچایتوں پر مشتمل ہے ۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع کے پانچ میونسپل بورڈوں میں رامپور شہر جنرل خاتون، سوار و ٹانڈہ پسماندہ خاتون اور ملک و بلاسپور چیئرمین کی نشست جنرل طبقے کے لئے ریزرو کی گئی ہے ۔جبکہ چھ نگر پنچایتوں میں شاہ آباد جنرل خاتون ، دڑھیال پسماندہ طبقات ، کیمری پسماندہ خاتون اور سیفنی ، مسواسی و نرپت نگر دونداوالہ کے چیئرمین کی نشست کو جنرل رکھا گیا ہے ۔
ان میں سب سے اہم رامپور میونسپل بورڈ ہے ۔ روہیلہ پٹھانوں کی ریاست رامپور کے میونسپل بورڈ کے چیئرمین کی کرسی پر 1934 سے زیادہ تر ایک ہی برادری کے افراد کا قبضہ رہا ہے ۔ جن میں صولت علی خاں ( 1934 ) ، ڈاکٹر احسان محمد خاں ( 1935 ) ، مولوی نور النبی خاں ( 1936 ) ، صاحبزادہ کرنل حسن رضا خاں ( 1939 ) ، ایم ناصر مسعود ( 1944 ) ، کنور لطف علی خاں ( 1946 ) ، محمود علی خاں عرف پتی خاں ( 1948 )، سید فرید الدین عرف اچھے میاں وکیل ( 1953 ) ، مولوی سلامت اللہ خاں ( 1958 ) ، فضل حق خاں ( 1959 )، اختر علی خاں ( 1962 ) ، عشرت علی خاں ( 1964,1968 ) ، منظور علی خاں عرف شنو خاں ( 1989 ) ، ریشما بی ( 1995,2000 ) ، سردار جاوید خاں ایڈوکیٹ ( 2006 ) ، اظہر احمد خاں( 2012 ) اور فاطمہ جبیں ( 2017 ) شامل ہیں ۔
اس مرتبہ رامپور میونسپل بورڈ کے چیئرمین کی نشست ایک بار پھر جنرل طبقے کی خاتون کے لئے مختص ہے ۔ جس کے سبب موجودہ چیئرپرسن فاطمہ جبیں کے علاوہ سبھی متوقع امیدواروں نے اپنے گھر کی خواتین کے سہارے میونسپل بورڈ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کا خواب دیکھا ہے ۔ کس کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا ہے اس کا فیصلہ 4 مئی کو رامپور کی عوام سنائے گی۔ موجودہ انتخاب میں رامپور میونسپل بورڈ چیئرمین کی نشست کے لیے 11 خواتین نے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔ جن میں سماجوادی پارٹی سے موجودہ چیئرپرسن فاطمہ جبیں، بی جے پی سے شہر کے معروف ڈاکٹر تنویر احمد خاں کی اہلیہ ڈاکٹر مسرت مجیب، کانگریس پارٹی سے صوبائی جنرل سیکریٹری ارشد علی خاں گڈو ایڈوکیٹ کی اہلیہ شیما ارشد، عام آدمی پارٹی سے معروف سماجی شخصیت مامون شاہ خاں کی اہلیہ ثناء خان، بہوجن سماج پارٹی سے رئیس احمد سیفی کی بہو رافعہ سیفی، راشٹروادی جن سماج پارٹی سے اسماء زاہد انصاری کے علاوہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے شبانہ بی ، نینا نصرت ، صبا شعیب ، محسنہ اقبال اور نازیہ شامل ہیں ۔
رامپور کی سیاست 1977 سے ہی اعظم خاں کے پرستاروں اور مخالفین کے درمیان دو گروپوں میں تقسیم رہی ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات کی طرح ہی میونسپل بورڈ چیئرمین کا انتخاب بھی سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر محمد اعظم خاں کی شخصیت کے ارد گرد گھومتا نظر آ رہا ہے ۔ کیونکہ سماجوادی پارٹی کا امیدوار کوئی بھی ہو شہر کی عوام اعظم خاں کو امیدوار سمجھتے ہوئے اپنا فیصلہ سناتی ہے ۔ اس انتخاب میں بھی بی جے پی حکومت کے ذریعہ مسلمانوں بالخصوص اعظم خاں کے خلاف ظلم و استحصال کا رویہ اہم مدعا بن رہا ہے ۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس انتخاب میں سماجوادی پارٹی کی امیدوار فاطمہ جبیں کو ٹکر دینے کے لئے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی امیدوار میں زبردست مقابلہ آرائی نظر آ رہی ہے ۔ سماجوادی پارٹی کی امیدوار فاطمہ جبیں کے 5 سالہ موجودہ دور کار میں صوبائی حکومت نے سیاسی انتقام کے تحت ان کے شوہر پر مقدمات درج کرائے اور ان کے انتظامی و مالی اختیارات چھین لیے اور ان کو مسلسل ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ حالانکہ چند روز میں ہی ہائی کورٹ نے حکومت کی کاروائی کو غلط ٹھہراتے ہوئے چیئرپرسن کے تمام اختیارات بحال کر دیے۔ ان کے دور کار کی خصوصیت یہ رہی کہ کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے داغ سے محفوظ رہیں۔
دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے میونسپل بورڈ چیئرمین کی نشست پر ایک مسلمان خاتون شہر کے معروف ڈاکٹر تنویر احمد خاں کی اہلیہ ڈاکٹر مسرت مجیب کو میدان میں اتارا ہے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ ایک سادہ مزاج خاتون ہیں۔ لیکن انہیں مسلمانوں کی جانب سے زبردست ناراضگی کا سامنا ہے اور بی جے پی کا اندورنی خلفشار بھی ان کی راہ مشکل بناتا نظر آ رہا ہے ۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کی امیدوار ثناء خان کا جادو نوجوان ووٹروں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ پرچہ نامزدگی سے ایک روز قبل ہی ان کا نکاح ہوا ہے اور ان کے شوہر مامون شاہ خاں عوام کے درمیان ایک سماجی شخصیت کے طور کافی مقبول ہیں ۔ مامون شاہ خاں کانگریس پارٹی کے شہر صدر بھی رہ چکے ہیں اور آج بھی انہیں کانگریس پارٹی کی سابق رکن پارلیمان بیگم نور بانو کی زاتی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔ عآپ امیدوار ثناء خان شہر میں اعظم خاں مخالف مسلم ووٹروں کو بڑی حد تک اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیاب نظر آ رہی ہیں ۔ اگر وہ اپنے جلسوں میں موجود لوگوں کی بھیڑ کو ووٹ میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی تو بی جے پی کی مسلم امیدوار اتارنے کی حکمت عملی ناکام ثابت ہو سکتی ہے ۔
کانگریس پارٹی کی امیدوار شیما ارشد اور بہوجن سماج پارٹی کی رافعہ سیفی بھی مقابلے میں آنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہیں ۔ گزشتہ انتخاب میں کانگریس امیدوار کی حیثیت سے شیما ارشد کو محض دس ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے اور وہ چوتھے مقام پر رہی تھی۔ اس بار بھی حالات میں کچھ خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی رافعہ سیفی ایک غیر معروف نام ہے جن کے لئے بی ایس پی کا کیڈر ووٹ حاصل کرنا بھی آسان نہیں لگ رہا۔ آن کے علاوہ باقی امیدوار صرف بیلیٹ پیپر تک محدود نظر آ رہے ہیں.







