منی پور میں تشدد کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جانکاری کے مطابق منی پور حکومت نے جمعرات کو قبائلیوں اور میتیئی طبقہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے انتہائی سنگین معاملوں میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کیا ہے۔ گورنر کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ جب سمجھانا بجھانا، تنبیہ کرنا اور مناسب طاقت کے استعمال کی حد پار ہو گئی ہو اور حالات کو قابو نہیں کیا جا سکے، تو دیکھتے ہی گولی مارنے کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ نوٹیفکیشن پر ریاستی حکومت کے کمشنر (داخلہ) کا دستخط موجود ہے۔
دراصل منی پور میں بدھ کے روز پیش آئے تشدد کے بعد حالات کو سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔ ہندوستانی فوج اور آسام رائفلز کے جوانوں نے تشدد زدہ علاقوں سے اب تک 9000 سے زائد شہریوں کو ریسکیو کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔این ڈی ٹی کے مطابق آرمی کی 55کمپنیاں حالات پر کنٹرول کے لیے تعینات کی گئی ہیں بتایا جا رہا ہے کہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے رات بھر ریسکیو آپریشن چلایا گیا اور یہ عمل صبح کو بھی جاری رہا۔ تشدد متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو فوج اور آسام رائفلز کے ذریعہ ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔







