غزہ (العربیہ ڈاٹ نیٹ) فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغے ہیں جبکہ اسرائیل نے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔اس فضائی بمباری میں کم سے کم 10 عام شہریوں سمیت 21 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ان میں تین سینیرمزاحمت کاربھی شامل ہیں۔
اس دوران میں مصر کے ایک سرکاری ٹی وی چینل نے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی اطلاع دی ہے لیکن اس اعلان کے فوراً بعد ہی اسرائیل کی طرف مزید راکٹ داغے گئے۔ان میں ایک گولہ ساحل، سمندر پر واق تل ابیب میں گراہے جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔مسلسل لڑائی کے پیش نظرابھی تک صورت حال غیریقینی ہے کہ جنگ بندی کب نافذالعمل ہوگی۔
غزہ سے راکٹ فائر ہونے کے بعدقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) دورواقع اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقے میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے۔
فریقین کے درمیان گذشتہ کئی ماہ میں ہونے والی یہ سب سے شدید لڑائی ہے اور اس نے خطے کو ایک مکمل جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے
۔جب راکٹ آسمان سے گزررہے تھے تو اسرائیلی ٹی وی اسٹیشنوں نے فضائی دفاعی نظام کو تل ابیب کی فضا کے اوپرراکٹوں کو روکتے ہوئے دکھایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پہلی بار ڈیوڈ سلنگ نامی فضائی دفاعی نظام نے ایک راکٹ کو روکا۔امریکاکے ساتھ مل کرتیارکیا گیا یہ نظام درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے خطرات کو روکنے کے لیے ہے اور یہ کثیرسطح فضائی دفاع کا حصہ ہے جس میں مشہور آئرن ڈوم اینٹی راکٹ سسٹم بھی شامل ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ 300غزہ سے سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے۔ان میں سے 200 سے زیادہ سرحد پار کرکے اسرائیلی علاقے میں گرے۔
دریں اثناء صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں جمعہ تک اسکول بند رہیں گے اور بڑے اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی۔
اسرائیلی طیاروں نے بدھ کو مسلسل دوسرے روزغزہ میں اہداف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے علاقے میں 40 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کا کہنا ہے کہ مذکورہ شہیدوں میں چار عسکریت پسند تھے۔
طور پر ان۔منگل کے روز اسرائیل کے ابتدائی فضائی حملوں میں جہاداسلامی کے تین سینیرعسکریت پسند اور کم سے کم 10 عام شہری شہید ہو گئے تھے۔ان میں زیادہ تر خواتین اور بچّے تھے۔







