نئی دہلی: ملیانہ قتل عام کیس کے 40 ملزمان کو ‘ثبوت کی کمی’ کی وجہ سے بری کرنے کے ایک ماہ بعد، الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو قبول کر لیا۔
انڈین ایکسپریسIndianExpres کے مطابق یہ معاملہ عدالت نمبر 48 میں درج تھا جس کی سربراہی جسٹس سدھارتھ ورما اور منیش کمار نگم کر رہے تھے۔ عدالت نے اس سلسلے میں نچلی عدالت سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
اخبار کے مطابق ایک وکیل ریاست علی خان نے کہا، ‘نچلی عدالت کے جج لکھویندر سنگھ سود کی طرف سے دیے گئے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ہماری درخواست کو ہائی کورٹ نے قبول کر لیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ درخواست پر جلد ہی سماعت شروع ہو جائے گی۔ درخواست قتل عام کا نشانہ بننے والے رئیس احمد کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ ایڈووکیٹ سید شاہنواز شاہ ہائی کورٹ میں کیس لڑ رہے ہیں۔
گزشتہ اپریل میں جس طرح ملیانہ کے ملزمین کو بری کیا گیا تھا، اسی طرح نچلی عدالت نے 2015 میں ہاشم پورہ کے ملزمین کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا تھا کہ ان کا جرم شک سے بالاتر نہیں ہے۔ تاہم بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو یہ کہتے ہوئے پلٹ دیا کہ پی اے سی کے جوانوں کے خلاف ثبوت مضبوط ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔
اب ملیانہ کے متاثرین الہ آباد ہائی کورٹ سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع کر رہے ہیں۔ ریاست علی کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور امید ہے کہ متاثرین اور لواحقین کے اہل خانہ کو بھی ہاشم پورہ کے بھائیوں کی طرح انصاف ملے گا۔’
قابل ذکر ہے کہ 23 مئی 1987 کو میرٹھ کے علاقہ ہاشم پور میں ایک دن قبل ہونے والے تشدد کے بعد ملیانہ میں فساد ہو گیا تھا۔ ملیانہ میں تشدد کے دوران 72 افراد کا قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ہاشم پورہ میں 42 افراد کی جان گئی تھی۔ تمام مرنے والے افراد مسلمان تھے







