کرناٹک پولیس نے بنگلورو کے مضافات میں راجن کنٹے میں دو دلت نوجوانوں کے دوہرے قتل کے الزام میں تین اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو گرفتار کیا ہے، جن میں دو بدمعاش بھی شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل ہیسرا گھٹہ کے ایک ہوٹل میں اونچی اور نچلی ذات کے لوگوں کے ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مذکورہ ملزمان نے دو نوجوانوں کو قتل کر دیا ۔ملزم بھرتھ گوڑا اور نشانتھ، دونوں کی عمریں کم و بیش بیس سال ہیں اور ہسارگھٹہ کے رہنے والے ہیں ان کا تیسرا ساتھی ونے بھی بیس سال کا ہے اس کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا۔ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا۔تفتیش جاری ہے کہ قتل کی وجہ کیا ہےتینوں ہماری تحویل میں ہیں،‘‘
دی ہندو کو موصول ہونے والی شکایت کی کاپی کے مطابق، ملزم ایک کار میں آیے اور جان بوجھ کر اس بائک کو ٹکر ماری جس پر گوپالا، ناگ راج اور رمایا سوار تھے۔ تینوں افراد ایس سی برادری سے تعلق رکھنے والے مزدور تھے۔ ٹکرانے کے بعد موٹر سائیکل تقریباً 50 میٹر ہوا میں اچھلی۔ ناگ راج اور رمایا موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ گوپالا اس وقت اسپتال میں نازک حالت میں ہیے ۔شکایت کنندہ، جو مقتول کا رشتہ دار ہے، نے بتایا کہ واقعہ سے 20 دن پہلے، ناگ راج ہسارگھٹہ کے ایک ریستوران میں کھانا کھا رہا تھا۔ ایک جگ سے پانی پینے کے دوران، ملزم بھرت گوڑا نے مبینہ طور پر ذات پات کا طعنہ دیا اور سوال کیا کہ ناگ را ج کیسے اسی جگ سے پانی پی سکتا ہے۔ شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ ناگ راج کو بھرت نے الیکشن ختم ہوتے ہی جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔اور وہ ایسا کرگزرا۔







