منی پور میں عیسائی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ 3 مئی 2023 کو منی پور میں کوکی اور میتی کمیونٹی کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران کم از کم 120 گرجا گھروں کو جلا دیا گیا ہے۔اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے
حالیہ جھڑپوں نے ریاست کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق، مرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے، 20,000 سے زیادہ گھر تباہ اور 50,000 سے زیادہ لوگ علاقے میں بے گھر ہوئے ہیںحالانکہ یہ دعویٰ بھی تصدیق طلب ہے۔۔ مزید برآں، کچھ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ تشدد کی وجہ سے تقریباً 250 گرجا گھروں کو تباہ کر دیا گیا، جن کا تعلق بنیادی طور پر میتی اور قبائلی کمیونٹی سے تھا۔
انگریزی نیوز پورٹل muslim mirror کی رپورٹس کے مطابق، منی پور اس وقت پرتشدد واقعے کے نتائج جھیل رہا ہے، جس نے املاک کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور اندازے کے مطابق 20 سال کی اقتصادی ترقی کو روک دیا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ‘اس فرقہ وارانہ تصادم کو کرانے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہاتھ ہے’۔
2022 کے منی پور ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوران، مرکزی وزارت داخلہ نے بی جے پی کی حمایت کرنے والے کوکی باغی گروپوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ بی جے پی نے 60 میں سے 32 سیٹیں حاصل کیں، سات کوکی بی جے پی ایم ایل اے اور تین اتحادی ایم ایل اے۔ معاہدے کے تحت ان کوکی عسکریت پسند گروپوں کو مخصوص کیمپوں تک محدود رکھا جانا تھا جو ماہانہ وظیفہ وصول کرتے تھے۔ تاہم، اب ان پر جدید ترین ہتھیاروں سے لیس میتی دیہات پر حملے کرنے کا الزام ہے۔
اس کے برعکس، کوکی کے گھروں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے والے ہجوم کی قیادت مبینہ طور پر حال ہی میں تشکیل پانے والے دو میتی گروپس: ارام بائی ٹینگول اور میٹی لیپن کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان گروپوں کے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ اور منی پوری کے بادشاہ سنجوبا لیشیمبا کے ساتھ قریبی روابط ہیں، جو کہ راجیہ سبھا بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ اس تعلق سے کوکی برادری کے خلاف تشدد بھڑکانے میں ان کے ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، منی پور میں فرقہ
محرک ہوتے ہیں، جن میں مسلمانوں اور عیسائیوں جیسی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔بہرحال رپورٹ تشویشناک ہے مگر ان اعدادوشمار کے واضح ثبوت ابھی سامنے نہیں آۓ ہیں







