آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ملک میں تنوع پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے ملک کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے ہندو مسلم اتحاد ضروری ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ کچھ کمیونٹیز باہر سے آئی تھیں اور ہم نے ان سے لڑا جو انہیں لائے تھے۔ لیکن وہ اب ‘ہمارے’ ہیں اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کی ذہنیت کو تبدیل کریں، اگر کوئی ہے تو،
سنگھ سربراہ کا یہ بیان جمعرات کو ناگپور میں سنگھ شکشا ورگ کے ایک پروگرام میں آیا۔
اس ضمن میں بھاگوت نے کہا کہ پوجا کے مختلف طریقے کے باوجود ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ ہمارے آباؤ اجداد یہیں سے تھے، بیرونی حملہ آور ہمارے آباؤ اجداد نہیں تھے۔
بھاگوت نے کہا کہ ایک وقت میں اسپین سے منگولیا تک اسلام کے پھیلاؤ کے دوران پوری دنیا کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا، ‘اسلام اسپین سے منگولیا تک پھیلا۔ آہستہ آہستہ وہاں کے لوگ بیدار ہوئے۔ جب انہوں نے حملہ آوروں کو شکست دی تو اسلام اپنے دائرہ اثر میں سکڑ گیا۔ حملہ اور وہاں سے چلے گئے، لیکن جہاں اسلام کی عبادت بحفاظت ہوتی ہے، وہ یہاں (ہندوستان میں) بحفاظت چلتی ہے۔ یہ پرامن بقائے باہم صدیوں سے ہے۔’
بھاگوت نے کہا، ”…اپنی انا اور ماضی کے بوجھ کی وجہ سے ہم متحد ہونے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم سب ماتر بھومی( مادر وطن) کی عبادت میں مشغول ہو گئے تو ہم اپنی شناخت کھو دیں گے۔ کون الگ شناخت چاہتا ہے؟ کوئی الگ پہچان نہیں ہے۔ ہماری الگ شناخت ہندوستان کے اندر محفوظ ہے۔ باہر، اگر آپ کسی قوم کی بنیادی شناخت سے مختلف ہیں، تو آپ کے لیے خوشگوار زندگی گزارنا مشکل ہے۔’
انہوں نے کہا، ‘ہمارے پوجا کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارا تعلق اس ملک سے ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد کا تعلق اسی ملک سے تھا۔ ہم اس حقیقت کو کیوں قبول نہیں کر پا رہے؟’
آر ایس ایس سربراہ نے کہا، “تنوع ہندوتوا کی مشترکہ میراث ہے۔ اس کے لیے سب کو کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا اور کچھ قربان کرنا پڑے گا۔







