واشنگٹن ڈی سی (وائس آف امریکہ) پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کے اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں کو منظر عام پر لانے والے جلاوطن پاکستانی صحافی احمد نورانی کو پاکستان میں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ سٹوری 20 نومبر 2022 کو فیکٹ فوکس نے شائع کی تھی۔ احمد نورانی سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافی کو اس لیے سزا نہیں دی جاتی کہ اس نے کوئی غلط خبر دی ہے، بلکہ اس لیے دی جاتی ہے کہ اس نے خبر دی ہی کیوں ہے۔ خبر کو چیلنج نہیں کیا جاتا بلکہ خبر کرنے پر پکڑا جاتا ہے۔
احمد نورانی ایک انویسٹیگیٹو جرنلسٹ ہیں اور اس وقت امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔وہ پاکستان میں گزشتہ 15 سال سے زیادہ عرصے سے منظم جرائم، سیاست، کرپشن، فراڈ اور ہیومن رائٹس پر ایکسکلوسو رپورٹنگ کرتے آ رہے ہیں ، اور اس وقت فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے لئے ایکسکلیو سیو رپورٹس لکھتے ہیں ۔
گزشتہ سال نومبر میں احمد نورانی نے اس وقت کے حاضر سروس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریٹرنز اور ان کی دولت میں کئی گنا اضافے کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس رپورٹ میں جنرل کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق دعووں کی تردید کی تھی۔اس سلسلے میں گذشتہ دسمبر میں احمد نورانی کے خلاف ایف آئی اے میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی ۔







