اتر پردیش پولیس کا دعویٰ ہے کہ غازی آباد پولیس کو آن لائن گیمز کھلانے کی آڑ میں جاری ‘دھرم پریورتین سنڈیکیٹ’ میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ خان شاہنواز مقصود عرف بدو، جو اس سنڈیکیٹ کا اہم ملزم سمجھا جاتا ہے، کو غازی آباد پولیس نے 11 جون کو مہاراشٹر کے تھانے سے گرفتار کیا ہے۔
خان شاہنواز مقصود عرف بڈو مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے ممبرا تھانے کے دیوری پاڑا کا رہنے والا ہے۔ دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق وہ شیمپو بنانے کا کاروبار کرتا ہے۔ بدو کے خلاف غازی آباد کے کوی نگر پولیس اسٹیشن میں 30 مئی کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
الزام کے مطابق بدو نے ایک سال قبل غازی آباد کے ایک جین خاندان کے ایک لڑکے کو کمپیوٹر گزٹس فروخت کیے تھے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی۔ آن لائن گیمز کھیلنے کی آڑ میں بدو نے اس لڑکے سے قرآنی آیات کی تلاوت شروع کر دی اور پھر اس کا برین واش کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لزام ہے کہ بدو کے برین واش کے بعد لڑکا غازی آباد کے سنجے نگر کی مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے لگا۔ لڑکا پانچ بار یہ کہہ کر گھر سے نکلتا تھا کہ جم جاؤں گا۔ گھر والوں کو شک ہوا تو اس کا پیچھا کیا اور پھر معلوم ہوا کہ وہ جم نہیں بلکہ مسجد جاتا ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران اس لڑکے نے تبدیلی مذہب کی بات قبول کر لی ہے۔ پولیس نے موبائل اور لیپ ٹاپ کی چھان بین کی تو بدو کا نام سامنے آیا۔ غازی آباد پولیس کی چار رکنی ٹیم گزشتہ پانچ دنوں سے مہاراشٹر میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھی۔







