مقبوضہ علاقے مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیل کے فضائی حملے میں پانچ فلسطینی ہلاک اور کم از کم 91 زخمی ہو گئے۔ یہ کارروائی پیر کو ہوئی۔ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی کارروائی میں ایک 15 سالہ بچے سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ علاقے میں چھاپہ مارنے کی یہ کارروائی اسرائیلی فضائی طاقت کا ایک غیر معمولی استعمال تھا۔
فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا کہ کم از کم 91 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق متعدد اسرائیلی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ”بڑے پیمانے پر فائرنگ کا تبادلہ” اس وقت شروع ہوا، جب فورسز دو مطلوب مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے لیے شمالی مغربی کنارے کے شہر میں داخل ہوئے۔ اس نے بتایا کہ فوجیوں پر ”بھاری تعداد میں ” دھماکہ خیز مواد بھی پھینکا گیا۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا، ”فورسز نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔ ہدف کی شناخت کر لی گئی تھی۔”
آئی ڈی ایف کا مزید کہنا تھا کہ ”فورسز کو نکالنے میں مدد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں نے بندوق برداروں کی طرف فائرنگ کی۔” بیان کے مطابق شہر سے باہر نکلتے وقت دھماکے میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سن 2000 کی دہائی کے اوائل کے بعد اس علاقے میں حملہ آور ہیلی کاپٹروں کا یہ پہلا استعمال تھا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ”تمام آبادکاری کی
سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دے۔” انہوں نے اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کو ”تناؤ اور تشدد” کا باعث بتاتے ہوئے کہا کہ یہ دیرپا امن کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔







