امپھال: منی پور میں حالات بدستور کشیدہ ہیں مقامی لوگوں کی طرف سے فوجی دستوں اور نیم فوجی دستوں کے خلاف مظاہروں کی بھی اطلاعات ہیں اس دوران ہزاروں خواتین کے احتجاج کرنے اور گرفتار خطرناک دہشت گردوں کو چھوڑ دینے کی خبر ہے ۔ تفصیلات کے مطابق خواتین کے ایک بڑے ہجوم نے سیکورٹی فورسز کو گھیر لیا۔ اس طرح گھیرے میں لینے کے بعد سیکورٹی فورسز کو اپنا سرچ آپریشن ہی نہیں روکنا پڑابلکہ اس احتجاج کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو ان 12دہشت گردوں کو بھی رہا کرنا پڑا جنہیں سرچ آپریشن کے دوران تحویل میں لیا گیا تھا۔
ہندوستانی فوج کی سپیئر کور نے کہا ’’سکیورٹی فورسز نے ہفتہ کو منی پور کے ایتھام گاؤں میں تلاشی آپریشن چلایا تھا۔ اس آپریشن کے دوران باغی گروپ کے وائی کے ایل (کانگلائی یاول کنا لوپ) کے 12 گرفتار دہشت گردوں کو رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سپیئر کور نے ٹوئٹر پر آپریشن کی ناکامی کی اطلاع دی۔ کہا گیا کہ علاقے میں 1200-1500 خواتین کے ہجوم نے انہیں گھیر لیا اور عسکریت پسندوں کو رہا کرا لیا۔
وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز کے خصوصی انٹیلی جنس ان پٹ کی بنیاد پر یہ آپریشن 24 جون کو مشرقی امپھال ضلع کے ایتھام گاؤں میں چلایا گیا تھا۔ اس آپریشن میں کے وائی کے ایل کے 12 کیڈرز کو اسلحے، گولہ بارود اور جنگ میں استعمال ہونے والی بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ پکڑا گیا۔ اس میں خود ساختہ لیفٹیننٹ کرنل موئرانگ تھام تامبا عرف اتم کی شناخت کی گئی۔ یہ وہی شخص ہے جو 2015 میں ڈوگرہ کی 6 ویں بٹالین پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
قومی آواز کے مطابق سرکاری بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری تھا کہ خواتین اور مقامی رہنماؤں کی قیادت میں 1200 سے 1500 افراد کے ہجوم نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سکیورٹی فورسز کو آپریشن جاری رکھنے سے روک دیا۔ سکیورٹی فورسز نے بارہا اپیل کی لیکن وہ نہیں مانے۔ معاملے کی حساسیت اور خونریزی کے امکان کو دیکھتے ہوئے افسران نے ان 12 مقامی رہنماؤں کو لوگوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقہ چھوڑ دیا۔ بھارتی فوج نے منی پور کے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور امن کی بحالی میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔







