اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں ایک پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے نتیجے میں آٹھ فلسطینی شہری ہلاک جبکہ 50 زخمی ہو گئے
اسرائیل نے پیر کی الصبح جنین کے پناہ گزین کیمپ پر آپریشن کا آغاز متعدد ڈرون حملوں سے کیا اور اسرائیلی فوجیوں نے بھی کیمپ پر چڑھائی کی جس کے نتیجہ میں دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
آپریشن کے دوران رہائشی علاقوں میں ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
بی بی سی کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت اور 50 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے دس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ وہ ’جنین کے علاقے میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے‘ پر حملے کر رہے ہیں اور یہ ’دہشت گردوں کا گڑھ‘ ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس آپریشن کو پورے مغربی کنارے تک پھیلانے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں اب تک کم از کم سات عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
فلسطینی وزیر اعظم محمد شتیہ نے جنین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیمپ کو تباہ کرنے اور یہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ جینین کیمپ اور اس کے ثابت قدم پناہ گزین ہمارے باقی شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں کی طرح قبضے اور اس کے حملوں کے خلاف مزاحم ہیں۔‘







