نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے کہا ہے کہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو لاگو کرنے کی کوشش بے وقوفی ہے۔
وشو بھارتی میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سین نے سوال پوچھا کہ اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ اس کا تعلق یقینی طور پر ہندو راشٹر کے خیال سے ہے۔
انگریزی اخبار “دی ہندو” نے اس خبر کو اہمیت دی ہے۔پروفیسر سین نے کہا کہ میں نے اخبارات میں لکھا دیکھا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔اس کے بغیر ہیں اور مستقبل میں بھی اس کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ پروفیسر سین نے کہا، "ہندو راشٹرواحد راستہ نہیں ہو سکتا جس سے قوم ترقی کر سکے اور ان سوالات کو وسیع تناظر سے دیکھا جانا چاہیے۔”
انہوں نے کہا، ’’یقیناً ہندو مذہب کو استعمال کرنے یا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔
اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو سی سی کو نافذ کرنے کی کوشش اس معاملے کو کھلے عام معمول پر لانے کی کوشش ہے جو پیچیدہ ہے اور جس پر لوگوں میں بہت سے اختلافات ہیں۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے پی ایم مودی کے دورہ امریکہ کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
جب امرتیہ سین سے اوباما کے تبصرے پر سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں طبقاتی، مذہب اور جنس کی بنیاد پر بہت سی عدم مساوات ہیں اور یہ ایک چیلنج بن کر ابھر سکتی ہیں۔
پروفیسر سین نے کہا، ”مجھے خوشی ہے کہ اوباما نے یہ نکتہ اٹھایا ہے۔ لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ آسانی سے مسئلہ بتا سکتے ہیں۔







