مہاراشٹر کے پونے ضلع میں ایک اسکول کے پرنسپل پر ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل نے منگل کو صبح کی اسمبلی کے دوران اسٹوڈنٹس کو مبینہ طور پرعیسائیوں کی( pray) دعا پڑھاے جانے پر حملہ کیا۔ ہندو تواگروپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسکول نے لڑکیوں کے واش روم کے باہری احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں۔ انہوں نے نے "ہر ہر مہادیو” کے نعرے لگاتے ہوئے پرنسپل کا پیچھا کیا جسے پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے ڈی وائی پاٹل ہائی اسکول کے پرنسپل کو مارا پیٹا، ان کے کپڑے پھاڑکےاسکول نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
الیگزینڈر کوٹس ریڈ، پونے کے تلیگاؤں دبھاڈے قصبے میں ڈی وائی پاٹل ہائی اسکول کے پرنسپل کو ہجوم سے بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہےُ
"ہمیں والدین کی طرف سے منگل کو اس معاملے میں ایک تحریری شکایت ملی، ہم اس کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔







