سعودی عرب کے سابق وزیر انصاف اور مسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سکریٹری محمد بن عبدالکریم العیسیٰ چھ روزہ ہندوستانی دورہ پرہیں۔ دورہ کے دوسرے دن یعنی منگل کے روز انھوں نے خسرو فاؤنڈیشن کےزیر اہتمام ایک تقریب کے دوران ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق اپنے نظریہ کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ہندوستانی تنوع کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔‘‘
یہ بات العیسیٰ نے اسلامک کلچرل سنٹر میں منعقد ایک تقریب کے دوران کہی۔ اس تقریب میں ہندوستان کے قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈوبھال بھی موجود تھے۔
مسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سکریٹری العیسیٰ نے اس موقع پر کہا کہ ’’مذہب تعاون کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ہم شعور کو فروغ دینے کے لیے ہر کسی سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ ہندوستان نے انسانیت کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ ہندوستان دنیا میں بقائے باہم کی سب سے بہترین مثال ہے۔‘‘
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سکریٹری نے ہندوستان کی قابل فخر تاریخ کی تعریف کی اور کہا کہ ثقافتوں کے درمیان ڈائیلاگ قائم کرنا وقت کا مطالبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم ہندوستان کی تاریخ اور تنوع کی تعریف کرتے ہیں۔ تنوع ثقافتوں کے درمیان بہتر رشتے قائم کرتیا ہے -تنوع میں اتحاد ایک بہترین راستہ ہے۔ ہندو طبقہ میں میرے بہت سے دوست ہیں‘‘
اپنے خطاب میں العیسیٰ نے ہندوستانی آئین کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’قوت برداشت ہماری زندگی کا ایک اہم عنصر ہونا چاہیے۔ ہندوستان ایک ہندو اکثریتی ملک ہے، اس کے باوجود ہندوستانی آئین سیکولر ہے۔ ہم مذاہب کے درمیان شعور کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں منفی نظریات پھیلائے جا رہے ہیں اور ہمیں یکساں اقدار کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان پوری دنیا کے لیے ایک ترغیب ہے، کیونکہ یہ ہر کسی سے بات چیت کے لیے تیار رہتا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری شراکت داری پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے







