جیوتی موریہ دو بچوں کی ماں نے شوہر کو چھوڑا، سیما حیدر چار بچوں کی ماں نے اپنے شوہر کو چھوڑا۔ جیوتی موریہ کو جو سماج گالیاں دے رہا تھا، وہی سماج سیما حیدر کے لیے جشن منا رہا ہے۔ موریہ انڈین ہے اور سیما پاکستانی۔ کیا غضب کا دوہرا معیار ہے۔‘
جیوتی موریہ پر سینہ پیٹنے والوں نے پاکستانی خاتون سیما کوچار بچوں کے ساتھ شوہر کو چھوڑ کر انڈیا آنے کو کیسے برداشت کر لیا۔ کہاں سے لاتے ہیں اتنا دوہرا پن ، ہر چیز میں ہندو مسلمان چاہیے۔‘
دونوں خواتین نے ایک ہی طرح کا کام (اپنے شوہروں کو چھوڑنے) کیا لیکن ایک کی پذیرائی ہو رہی ہے جبکہ دوسری کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس طرح کے تبصروں سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے حیرت کی بات یہ ہے مسلم دشمنی کی ذہنیت نے اس معاملہ میں سیما کے پاکستانی ہونے کا فیکٹر بھی نظرانداز کردیا ہے ،کیا صرف اس لئے کہ چار بچوں کی ما ں سیما غلام حیدر ایک مسلمان ہے اور ہندو کے پیار میں سب کچھ چھوڑ بیٹھی ہے اس سے ان کے اندر موجود احساس کمتری کے عنصر کو تفاخر اور عارضی ہی سہی برتری کا احساس ہوتا ہے ،بھلے ہی بدترین قسم کی hipocracy برہنہ ہوکرسامنےآجائے-ہندتواوادی سماج اسی دوہرے پن کے ساتھ جینے کا عادی ہوگیا ہے ورنہ غلام حیدر کو ظالم اور آلوک موریہ کو مظلوم کیوں سمجھا جائے ،آپ کو کیا لگتا ہے اس منافقانہ ،دوہرے روییے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟؟







