اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں کانوڑ یاترا کے دوران اس کے روٹ پر آنے والے تمام مسلم مالکان کے ہوٹل اور ڈھابے بند رہے۔ان میں ویج اور نان ویج دونوں ہوٹل شامل تھے۔
بی بی سی نے اس پورے معاملہ پرتفصیلی رپورٹ شائع کی ہے ۔اس نے بتایا کہ کانوڑ یاترا کے راستے پر وہ تمام ہوٹل اور ڈھابے جن کے مالکان یا عملہ مسلمان ہیں، تقریباً 15 دن تک بند رہے۔ اگرچہ اب یہ ہوٹل اور ڈھابے آہستہ آہستہ کھلنے لگے ہیں لیکن اب ان کے سامنے ایک نیا چیلنج ہے۔
بی بی سی کے مطابق مظفر نگر کے ایک ہندو سنت نے اب ان ڈھابوں کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ دو ہفتوں سے ہوٹلوں کی بندش کے باعث ان کے مالکان کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔زبر
حالیہ برسوں کی کانوڑیاترا کے دوران یاترا کے راستوں پر گوشت یا مچھلی کی دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ لیکن اس بار مسلمان مالکان کے سبزی خور ہوٹل بھی بند ہو گئے۔
اس سلسلے میں مظفر نگر سٹی مجسٹریٹ وکاس کشیپ نے ایک بیان میں کہا، ”پچھلی بار کانوڑیاترا کے دوران ایک واقعہ سامنے آیا تھا۔ اس بار تمام ہوٹل مالکان کی میٹنگ ہوئی اور انہیں ہدایت کی گئی آپ جو ہیں وہی نام ظاہر کریں اور کچھ نہیں۔
دوسری طرف مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اروند بنگاری نے اس موضوع پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اب یاترا ختم ہو چکی ہے اور کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہماری ملاقات سونو پال اور صادق تیاگی سےیاترا کے مرکزی راستے NH-58 پر باغ والی چوراہا میں واقع پنجابی نیو اسٹار شدھ ڈھابہ پر ہوئی۔
سونو پال بتاتے ہیں، ”میں ہوٹل کا مالک ہوں، لیکن محمد یوسف عرف گڈو ہوٹل کا پارٹنر ہے۔ زمین بھی ایک مسلمان کی ہے جس کا نام عالم ہے۔
سونو کا کہنا ہے، ’’یہ کانوڑکا موسم تھا اور انتظامیہ نے ہمارا ہوٹل بند کر دیا۔ فوڈ لائسنس سے لے کر سارا کام میرے یعنی سونو کے نام پر ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں، ”30-35 لڑکوں کا عملہ ہے، سبھی خالی پڑے ہیں۔ موسم کی وجہ سے سامان بھی لایا اور پیشگی رکھا۔ سب کچھ خراب ہو گیا تین سے چار لاکھ کا نقصان ہوا
سونو کا دعویٰ ہے، ’’کوئی نوٹس نہیں ملا۔ صرف دو چار پولیس والے آئے اور ہوٹل بند کر دیا۔ پوچھنے پر جواب ملا کہ مسلمان ہو کر ہندو کے نام پر ہوٹل چلا رہے ہو۔
مظفر نگر انتظامیہ نے ایسے ہوٹلوں کو بند کرنے سے متعلق کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا تھا۔
تاہم ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ ایسے ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں جن کے مالکان مسلمان ہیں اور جن کے نام ہندو ہیں۔ ابھی مزید کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے ہیں۔ چنڈی گڑھ دا ڈھابہ کے منیجر افسر نے کہا کہ، ”یہ خالص ویج ہوٹل ہے۔ ہم یہاں انڈے بھی نہیں پکاتے۔ کیونکہ ہریدوار جانے کا یہی راستہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہاں سے استھیاں بھی لے جاتے ہیں۔ ہم ان کے عقیدے کا مکمل احترام کرتے ہیں۔”شناخت چھپانے کے معاملے پر، افسر کا کہنا ہے، "ہوٹل کا نام چندی گڑھ سے متاثر ہو کر چندی گڑھ رکھا گیا تھا۔ ہم نے کوئی شناخت نہیں چھپائی۔ ب رجسٹریشن کاپی بھی
چسپاں کر دی گئی ہے۔”
سوامی یشویر نے مظفر نگر میں مسلمانوں کے ویج ڈھابوں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ خود کو سنت ہونے کا دعویٰ کرنے والے سوامی یشویر کا آشرم بگھرا میں ہے۔
سوامی یشویر کا دعویٰ ہے، ’’بہت سے مسلمانوں کے ہوٹل ہندوؤں اور ہندو دیوتاؤں کے نام پر ہیں۔ سفر کے دوران ہندو اپنے نام اور تصاویر دیکھ کر ان ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں۔
سوامی یشویر نے اس طرح کی کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا، ”یہ لوگ کھاتے ہوئے تھوکتے اور پیشاب کرتے ہیں۔ اس لیے ہم ایسے جہادیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔سوامی یشویر نے ان ہوٹلوں میں تھوکنے، پیشاب کرنے اور کھانے میں گائے کا گوشت ڈالنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔
یشویر کہتے ہیں، ”اسی لیے ہم نے ان کے خلاف آواز اٹھائی۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہوئے ہندوؤں یا ہندو دیوتاؤں کے نام پر نہیں بلکہ اپنے اور اپنے مذہب کے نام پر ہوٹل چلاتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔








