منی پور ٹریجڈی سے گزری جن دو لڑکیوں نے اس بربریت کا سامنا کیا ہے، ان میں سے ایک کی والدہ جب آپ بیتی سنانے کی کوشش کرتی ہے تو آنکھوں سے دریا رواں ہو جاتا ہے
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ پر شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ کی والدہ نے ایک انٹرویو میں اپنی داستان سنا کر حکومت کی ناکامی سے پردہ اٹھا دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ اب ان کے پاس واپس گاؤں جا پانا ممکن نہیں ہوگا۔ پھر اس لمحہ کو یاد کرتے ہوئے وہ روتے روتے نیم بیہوشی کے عالم میں چلی جاتی ہے، ان کے منھ سے الفاظ نکلنے بند ہو جاتے ہیں۔ منی پور حکومت پر الزام لگاتے ہوئے متاثرہ کی ماں نے کہا کہ حکومت نے تشدد کو روکنے کے لیے مناسب اقدام نہیں کیے۔
ایک پرائیویٹ چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں متاثرہ کی والدہ نے بتایا کہ ’’پرتشدد بھیڑ نے ان کے شوہر اور بیٹے کو بے رحمی سے مار دیا۔ کیمرے کے سامنے ان کی بیٹی کو بے لباس کر کے پورے گاؤں میں گھمایا گیا اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ شرمناک واقعہ منی پور میں ہوئے تشدد کے ایک دن بعد، یعنی 4 مئی کو پیش آیا۔ ماں نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے چھوٹے بیٹے سے محروم ہو گئی، جو میری زندگی کی پوری امید تھی۔ اچھی تعلیم کے لیے اسے اسکول بھیجا، لیکن اب اس کے والد بھی نہیں بچے۔ اس لیے جب بھی میں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے کوئی امید نظر نہیں آتی۔‘‘
انھوں نے بتایا کہ گاؤں میں میتئی اور کوکی طبقات کے درمیان پوری طرح سے بھروسہ ٹوٹ جانے کے بعد تشدد کا پیمانہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں ان کے ذہن میں گھر واپس لوٹنے کا خیال بھی نہیں آتا۔








