منی پور میں تشدد کے بعد شمال مشرق کی دیگر ریاستیں بھی ذات پات اور نسلی تشدد کی لپیٹ میں آ گئی ہیں۔ جس سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ پارلیمنٹ کی کارروائی شروع سے ہی ٹھپ پڑی ہے-
ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق اب آسام اور منی پور کی طلبہ یونین نے میزو کے لوگوں کو آسام کی وادی بارک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس سے دو دن پہلے میزو تنظیموں نے میتیوں کو میزورم چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھا۔
بھاسکر کے مطابق انڈر گراؤنڈ میزو نیشنل فرنٹ کے عسکریت پسندوں کی تنظیم پیس ایکارڈ ایم این ایف ریٹرنیز ایسوسی ایشن (پی اے ایم آر اے) نے کہا تھا کہ میزورم میں رہنے والے میتی لوگوں کو سیکورٹی کے پیش نظر ریاست چھوڑ دینا چاہیے۔وہیں میزورم میں بڑی تعداد میں لوگ میتیوں کی حمایت میں سڑکوں پر اترے۔
خوف کی وجہ سے اب تک میتی کمیونٹی کے 568 لوگ میزورم چھوڑ کر امپھال آئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر طلباء اور انتظامیہ سے وابستہ لوگ ہیں۔ منی پور کے 60 ایم ایل اے میں سے 40 ایم ایل اے میتی اور 20 ایم ایل اے ناگا کوکی قبیلے سے ہیں۔ اب تک 12 میں سے صرف دو وزیراعلیٰ قبیلے سے ہیں۔








