نئی دہلی:سی بی آئی منی پور میں ہجوم کے ذریعہ دو خواتین کو برہنہ کرکے پریڈ کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے سی بی آئی سے وائرل ویڈیو کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے جمعرات کو یہ دعویٰ کیا ہے۔ اس کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت یہ مطالبہ کرنے جا رہی ہے کہ مقدمے کی سماعت تشدد سے متاثرہ ریاست منی پور سے باہر کی جائے۔ معلومات کے مطابق پڑوسی ریاست آسام کی عدالت میں کیس چلانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق منی پور تصادم سے متعلق پانچ سے زیادہ سنگین معاملات کی جانچ پہلے ہی سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ منی پور کیس کی سماعت جمعہ 28 جولائی کو ہی سپریم کورٹ میں ہونے والی ہے۔ ایسے میں حکومت اسی دن سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر سکتی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ منی پور جنسی تشدد کے وائرل ویڈیو کی سماعت ریاست سےباہرہو
منی پور میں کوکی خواتین کے ساتھ ظلم کی ویڈیو جس موبائل فون سے 19 جولائی کو وائرل ہوئی تھی وہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ وہ موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس نے اس موبائل فون کو جانچ کے لیے سی بی آئی کے حوالے کر دیا ہے۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ جس موبائل فون سے یہ ویڈیو لیک ہوئی اس کی تحقیقات کے بعد واقعات کی ترتیب معلوم ہو سکے گی۔








