نئی دہلی (آرکے بیورو)جماعت اسلامی ہند نے ہریانہ کے نوح میں پھوٹ پڑے فساد پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ایسا لگتا ہےجیسے ہریانہ میں حکومت نہیں ہے۔ انہوں نے تشدد کے لیے انتظامیہ کی ناکامی کو ذمہ دار ٹھہرایا
یہاں منعقدایک پریس کانفرنس میں نوح کے تشدد پر جماعت کے نیشنل سکریٹری شفیع مدنی نے کہا، جس طرح سے جل ابھیشیک کے نام پر جلوس نکالا گیا، اس بار بہت پہلے سے تیاریاں کی گئی تھیں۔ جو ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں ان سے لگتا ہے کہ بہت کچھ غلط ہو گیا ہے۔ اس تشدد کی تیاریاں پہلے ہی کر لی گئی تھیں۔ انتظامیہ کو جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔ فرقہ وارانہ تشدد ہوا، جس میں دو ہوم گارڈ بھی مارےگئے
اسے انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، منصوبہ بندی کے ساتھ صورتحال کو خراب کیا گیا یہ حکومت کے لیے شرم کی بات ہے۔مدنی نے کہا کہ ہم نے وہاں کا دورہ کیا۔ بہت سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
مدنی نے کہا کہ حکومت کو بھی اپنا رویہ بہتر کرنا ہو گا اور میڈیا کو بھی، تاکہ ملک کے حالات بہتر ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اقتدار میں رہنے والوں کو امن برقرار رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں-
پریس کانفرنس میں موجود جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئیر محمد سلیم نے جے پور-ممبئی سپر فاسٹ ایکسپریس کے اندر فائرنگ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ واضح ہو آر پی ایف جوان نے چلتی ٹرین میں اپنے ایک سینئر افسر اور تین مسافروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تینوں مسافر مسلمان تھے۔ بعد میں جوان کو گرفتار کر لیا گیا۔
مدنی نے کہا، ٹرین میں پیش آنے والے واقعے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ گرفتار ملزم جوان کو ذہنی طور پر بیمار بتانے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہلاک ہونے والوں کے لیے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت ملک معتصم خان نے دعویٰ کیا کہ موجودہ سرکار سے لوگ بیزار ہوگئے ہیں ۔عوام کی ہمت بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن میڈیا کے حوالہ سے جو رپورٹ آئی ہے وہ تشویشناک ہے-
گیانواپی سروے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی سروے کو نہیں روکا ایسے فیصلہ کو جماعت صحیح نہیں سمجھتی اس سے کوئی عبادت گاہ محفوظ نہیں رہے گی-انہوں نے یاد دلایا کہ بابری مسجد کے حق میں تمام ثبوت کے باوجود فیصلہ حق میں نہیں آیا ایسے معاملات کا حل صرف عبادت گاہ ایکٹ پر عمل کرنا ہے-انہوں نے سوال کیا کہ جب قانون کے مطابق اسٹیٹس بدلا نہیں جاسکتا تو پھر سروے جیسی مشقت کی کیا ضرورت ہے-آپ سماج کو غلط سمت میں لے جارہے ہیں
نوح میں بلڈوزر ایکشن پر شفیع مدنی نے کہا کہ آخر یہ وقت ہی کیوں چنا گیا اور اگر اس میں صرف مسلمانوں
کو ہی ٹارگٹ کیا جارہا ہے تو پھر یہ کھیل سیاسی ہے








