سیاسی تشدد اچانک نہیں ہوتا۔ ہریانہ کے نوح شہر میں ایک ہندو مذہبی یاترا پر مسلمانوں کی طرف سے پتھراؤ کے پیچھے ایک وجہ تھی۔ لوگوں کو شبہ تھا کہ اس یاترا کی قیادت مونو مانیسر نامی شخص کر رہا تھا، جس کے گئؤ رکھشکوں نے بہت سے مسلمانوں کو ہلاک کیا تھا۔ بجرنگ دل کے اس شخص کو اتنا یقین تھا کہ وہ ہمیشہ حکومت سے سپورٹ حاصل کرتا تھا۔ شاید اسی لیے انہوں نے یاترا سے ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ قیادت کریں گے اور جو لوگ حمایت کرنا چاہتے ہیں وہ فلاں وقت فلاں مقام پر پہنچ جائیں۔
مونو مانیسر کو یہ ضرور معلوم ہوگا کہ نوح کے پاس مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے اور یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ اس طرح کے اعلان کے بعد مسلم کمیونٹی کے لوگ تشدد کی تیاری شروع کر دیں گے۔ گزشتہ دنوں راجستھان کے دو مسلمان مردوں کو ان کی کار میں زندہ جلا دیا گیا اور شک مونو مانیسر کے گائے کے محافظوں پر پڑا، لیکن کوئی بھی پکڑا نہیں گیا اور حکومت نے گائے کے محافظوں کو قابو کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
جب ہریانہ میں تشدد ہوا اور وہ قابو میں نہیں آیا تو مرکزی حکومت کے وزراء نے کھل کر کہا کہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ مونو مانیسر کے لیے ہریانہ حکومت کے وزیر پشت پناہ بن گئے اور کہا کہ مونو جلوس میں نہیں تھے۔ یقیناً وہ اس دن یاترا پر نہیں تھے، لیکن کیا تشدد کا ماحول پیدا کرنے میں ان کا کوئی ہاتھ تھا؟
تولین سنگھ نے ٹرین میں مسلمان مسافروں کے چن چن کر قتل کے واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس نے عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے کے دوران مسلمانوں پر بدسلوکی کی تھی۔
جہاں تک سیما کا معاملہ ہے صحافی بھی سیما حیدر کو جاسوس قرار دے کر پاکستان واپس بھجنے یکا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں معلوم ہے کہ سیما کے وہاں واپس آتے ہی اسے قتل کر دیا جائے گا۔ مسلمانوں کے لیے ماحول اتنا خراب ہو چکا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ہونا جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس ملک میں نفرت اور فساد پھیلتا ہے وہاں سے سرمایہ کار بھاگ جاتے ہیں۔ پتہ نہیں ملک کا کتنا نقصان ہو گا۔
(بشکریہ :انڈین ایکسپریس میں شائع مضمون کا اختصار ،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)







