کھنؤ انسٹیٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (اشو) کے ایک وفد نے ڈاکٹر انیس انصاری، چیئرمین اشو کی قیادت میں پرنسپل سیکرٹری آیوش سے ملاقات کی اور ان کو یونانی محکمہ کے معاملات و مسائل سے آگاہ کیا. پرنسپل سیکرٹری آیوش کے سامنے سب سے پہلے تکمیل الطب کالج کے قدیم کیمپس میں زیر تعمیر حکیم عبدالعزیز ہاسپٹل کے رکے ہوئے کام کو فوری طور پر شروع کرانے کی بات رکھی گئی اور وہاں اسٹاف کے لئے بنائے گئے فلیٹس میں بجلی پانی کا انتظام کروا کر اسٹاف کو الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا. اسی ذمن میں قدیم کیمپس کے شعبہ اناٹومی کی تاریخی اہمیت اور حیثیت کو ان کے سامنے رکھا گیا کہ اس عمارت کو محفوظ کر کے حکیم عبدالعزیز میوزیم بنایا جائے اور تکمیل الطب کالج کے تاریخی صدر دروازے کو بھی برقرار رکھا جائے جس کو سیکرٹری آیوش نے بہت پسند کیا.
یونانی کے ابھی لکھنؤ ، گورکھپور ، وارانسی اور بریلی میں صرف چار ڈویژنل آفس کام کر رھے ہیں، اب پریاگ راج، ایودھیا، اعظم گڑھ، میرٹھ اور مراد آباد میں مزید پانچ یونانی ڈویژنل آفس کے قیام کی انتظامی کارروائی مکمل ہو چکی ھے لہٰذا ان کے قیام کا آرڈر جاری کیا جائے اور بقیہ نو یونانی ڈویژنل آفس کے قیام کی کارروائی شروع کرائی جائے. اقلیتی اکثریتی علاقہ بریلی میں وزیر اعظم ترقیاتی منصوبہ کے تحت بریلی یونانی میڈیکل کالج کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل ہو گیا ھے اس لئے وہاں کی عوام کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے فوری طور پر وہاں ایک یونانی ڈسپنسری کا آغاز کیا جائے جس سے عوام کو علاج کی سہولت ملنے کے ساتھ ہی کالج کی شروعات کے لئے پرمیشن ملنے کی کارروائی میں بھی آسانی پیدا ہو. آیوروید اور یونانی کے مشترکہ ڈائریکٹوریٹ کو 2008 میں دونوں پیتھی کے فروغ کے لئے علیحدہ کیا گیا تھا مگر پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک دونوں پیتھی کا دستور العمل الگ نہیں ہو سکا ھے جس کی وجہ سے یونانی ڈائریکٹوریٹ کے کاموں میں بہت دشواری کا سامنا رہتا ھے اس لئے یونانی دستور العمل بننے تک کے لئے یونانی ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری کسی آئی اے ایس یا پی سی ایس افسر کے سپرد کی جائے اور جلد از جلد یونانی ڈائریکٹوریٹ کا دستور العمل نافذ کیا جائے تاکہ یونانی ڈائریکٹوریٹ کو با اختیار یونانی عہدیداران حاصل ہو سکیں. پریاگ راج یونانی میڈیکل کالج کا قدیم کیمپس موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی حالت میں نہیں ھے اس لئے پریاگ راج میں قائم کئے جا رھے نئے علاقوں میں کہیں پر کم از کم پندرہ ایکڑ زمین پر پریاگ راج یونانی میڈیکل کالج کا نیا کیمپس بنوایا جائے. آیوروید اور ہومیوپیتھی ڈسپنسریوں کے مقابلے یونانی ڈسپنسریوں کی تعداد بہت کم ھے جس کے لئے زیادہ سے زیادہ نئی یونانی ڈسپنسریوں کو قائم کرانے کا فیصلہ لیا جائے اور ضلع ترقیاتی پروگرام کے تحت مہاراج گنج، چتر کوٹ، گوتم بدھ نگر، متھرا، ہاپوڑ، مین پوری، اٹاوا، جھانسی و شاملی میں کل نو یونانی ڈسپنسری قائم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ھے جس پر عمل درآمد کرایا جائے. لکھنؤ میں یونانی ادویات بنانے اور لیبوریٹری کے لئے عمارت بن کر تیار ھے لہٰذا دونوں شعبوں کو اس عمارت میں منتقل کیا جائے اور لیبوریٹری کے لئے ضروری اسٹاف کی تقرری کا نظم کرایا جائے. وزارت آیوش، حکومت اتر پردیش نے کشی نگر میں ایک یونانی میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کیا ھے جس کی منظوری کے لئے معاملہ مرکزی وزارت آیوش میں پیش کیا جا چکا ھے، اس کی کارروائی کو جلد مکمل کرانے پر توجہ دی جائے تاکہ کشی نگر جیسے پچھڑے علاقے کے عوام کو یونانی پیتھی سے علاج کی سہولت حاصل ہو جائے. گورنر ہاؤس اور سکریٹریٹ میں کافی طویل مدت سے یونانی ڈسپنسری قائم ہیں مگر ابھی تک دونوں جگہ پر وزارت آیوش کی جانب سے اسٹاف کی منظوری نہیں دی گئی ھے جس کے لئے کاروائی کرائی جائے. وفد میں شامل ڈاکٹر انیس انصاری، محمد خالد، ڈاکٹر آفتاب ہاشمی ، ڈاکٹر معید احمد اور ڈاکٹر اشفاق احمد کی سبھی باتوں کو سکریٹری آیوش نے پوری توجہ سے سنا اور امید دلائی کہ آپ لوگوں نے جو بھی مطالبات رکھے ہیں وہ یونانی پیتھی کے فروغ کے لئے انتہائی ضروری ہیں اور ان پر جلد سے جلد کارروائی کی جائے گی. آگے بھی آپ لوگوں سے ملاقات ہوتی رھے تاکہ مجھے بھی کاموں کو آگے بڑھانے میں سہولت ہو-








