نوح (ایجنسی)نوح فساد کے بعد نفرت کا کھیل جاری ہے خبر کے مطابق ہریانہ کی درجنوں پنچایتوں نے ایک ایسا فرمان جاری کیا ہے جو فکر انگیز ہی نہیں تشویشناک بھی ہے۔ دراصل تین ضلعوں ریواڑی، مہندر گڑھ اور جھجر کی 50 سے زائد پنچایتوں نے مسلم ،دکانداروں وتاجروں کے داخلے پر روک لگانے سے متعلق خط جاری کیا ہے۔ سرپنچوں کے دستخط شدہ ان خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں کو پولیس کے پاس اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات جمع کرنے ہوں گے۔
حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ بیشتر گاؤوں میں اقلیتی طبقہ کا کوئی بھی باشندہ نہیں ہے۔ چند ایک کنبے ہیں جو تین سے چار نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ "ہمارا ارادہ کسی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں ہے۔” نارنول (مہندر گڑھ) کے سَب ڈویژنل مجسٹریٹ منوج کمار نے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کو بتایا کہ انھیں خطوط کی کاپی ہاتھ نہیں لگی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر خط ضرور دیکھا ہے اور بلاک دفتر سے سبھی پنچایتوں کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجنے کو کہا گیا ہے۔
منوج کمار کا کہنا ہے کہ ایسے خط جاری کرنا قانون کے خلاف ہے۔ حالانکہ ہمیں پنچایتوں کی طرف سے ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا۔ ان گاؤوں میں اقلیتی طبقہ کی آبادی 2 فیصد بھی نہیں ہے۔ ہر کوئی خیر سگالی کے ساتھ رہتا ہے اور اس طرح کا نوٹس صرف اس خیر سگالی میں رخنہ ڈالے گا۔دریں اثنا قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان بیشتر گاؤں میں مسلمانوں آبادی نہیں ہے یا پھر چند گھر ہیں البتہ مقامی آبادی نے اسکا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔








