راہل گاندھی کی بالآخرگھر واپسی ہوگئی ۔ بی جے پی میں مودیی بھکت قسم کے ایم پی بار بار کہتے ہیں کہ راہول گاندھی اب بھی ‘بچہ’، ‘پپو’، ‘جوکر’ ہیں۔
سروے بتاتے ہیں کہ مودی دنیا کے مقبول ترین سیاستدان ہیں، یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھارتی سیاستدان مودی کو چیلنج کر سکتا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں یہ خاندان ہندوستان کے لوگوں کی نظروں میں اس قدر قابل احترام ہے کہ سونیا گاندھی کو بھی لوگوں نے غیر اعلانیہ وزیر اعظم کے طور پر قبول کر لیا۔ تو، راہل کیوں نہیں؟ اگر 2024 میں ‘انڈیا’ اتحاد جیت جاتا ہے تو اس کی قیادت سب سے پہلے راہل گاندھی کو سونپ دی جائے گی اور یہ ان پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اسے ماننے کو تیار ہیں یا نہیں۔
اسمرتی ایرانی نے جس تکبر اور گھمنڈکے ساتھ راہل گاندھی پر حملہ کیا وہ حیران کن تھا۔ تاہم پارلیمنٹ میں واپس آنے کے بعد راہل گاندھی کی پہلی تقریر سن کر مجھے سخت مایوسی ہوئی۔
بات منی پور کی ہونی چاہئے تھی لیکن راہل نے اپنی تقریر ‘بھارت جوڑو یاترا’ سے شروع کی۔ کیوں؟
جب منی پور کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو دو خواتین سے بات کرنے میں کافی وقت گزارا۔یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اگر کانگریس حکومت چلا رہی ہوتی تو وہ منی پور کا مسئلہ کیسے حل کرتی۔
یہ اچھی بات ہے کہ راہل گاندھی عام لوگوں کے درمیان جا رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ اتنے سال سیاست میں رہنے کے بعد بھی کیا ان کی تربیت جاری ہے؟ کیا یہ حقیقی قیادت دکھانے کا وقت نہیں ہے؟اب یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ راہل نوح کیوں نہیں جاتے؟ بلڈوزر انصاف کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟








