شعبہ سیاسیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سروجنی نائیڈو مرکز برائے نسوانی مطالعات(ایس این سی ڈبلیو ایس) کے اشترا ک پارٹیشن ہوررز ریمیمبرینس ڈے کی یاد میں چودہ اگست دوہزار تیئس کو شعبہ سیاسیات کے ایم مینائی سیمینار روم میں ایک مذاکرتی سیشن منعقد کیا۔پروفیسر نجمہ اختر(پدم شری) شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پروگرام کا افتتاح کیا۔پروگرام میں (انسانی حقوق اور سماجی اشتمالیت کے ایچ آر ڈی سی ریفریشر کورس کے تقریباً نصف شرکا) سوسے زیادہ شرکانے شرکت کی۔
پریم چند آرکائیوز کے تعاون سے ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار واقعات سے متعلق تصاویر کی نمائش شعبے کے دالان میں لگائی گئی تھی جس کے بعد تقسیم ہند سے متعلق پینل مذاکراتی سیشن ہوا۔
شعبہ سیاسیات کی صدر پروفیسر بلبل دھر جیمس نے این این سی ڈبلیو ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے ہندوستان کی تقسیم کی کہانی کو ’انسانی آبادی کی بے نظیر ڈسپلیسمنٹ، جبری ہجرت،بڑے پیمانے پرخونیں فساد جس نے صرف خوں بہانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ’غیر‘ کی تہذیبی و ثقافتی اور اس کے وجود کونیست ونابودبھی کیا‘یہ حقیقت برقرار ہے کہ جس خطے میں یہ فسادات ہوئے وہاں برسہا برس سے وہ برادریاں اور قومیں باہم زندگی گزار رہی تھیں۔پنجاب،بہار،یونائٹیڈ پرونس اور یقیناً بنگال چند مثالیں ہیں جہاں باہمی طورپر زندگی بسر کرنے کا عا م چلن تھا۔ٹرینوں پر بحران کے مناظر بھی جو کہ استعاراتی پیکر بن چکے تھیں وہ واٹر مارک کی صورت میں اشتہارات پر موجود بہت مشہور ہیں۔
جو لوگ ٹرینوں کا انتظار کررہے تھے ان کے لیے ٹرینیں یاد تازہ کرنے والی تھیں۔ٹرینیں دیکھ کر ہم نے کامیابی کے خواب دیکھے لیکن انھی ریل کی پٹریوں نے وہ خواب چھیں لیے۔ پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ نے تقسیم ہند کے سانحہ سے ابھرنے والے منظر نامے پر اظہار خیال کیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم جناب نرنیندر مودی نے گزشتہ کہاتھاکہ چودہ اگست کو بطور پارٹیشن ہوررز ریمیمبرینس ڈے منایا جائے اس امید کے ساتھ کہ وہ ہمیں سماجی تفریق کے زہر کواپنے اندر سے دورکرنے، عدم ہم آہنگی اور اتحاد،سماجی ہم آہنگی اور انسانی خود مختاریت کی روح کوفروغ دینے کی ضرورت کا احساس دلائے۔
خصوصی ماہر ڈاکٹر سنجے کمار سابق انڈین کنٹری ڈائریکٹر اور صدر ہارورڈ کلب نے پینل ڈسکشن میں ایک ہجرت اور تقسیم پر ایک اسٹڈی پیش کی جس نے محترمہ پلوی برارا کے لیے جو کہ الیانس فرانس،ایلے ایست میں فرانسیسی زبان کی پروفیسر ہیں اور ایک رسرچ اسکالر آف کلچر اینڈ لٹریچر بھی ہیں ان کے لیے کثیر رخی سماجی یاد کے کردار کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب میں تنازع کی اجتماعی یادوں کے لیے فضا تیار کردی۔انھوں نے کرشنا سوبتی کے ’زندگی نامہ‘(انیس سو اناسی) میں اجتماعی یاد کی باز تشکیل اور تقسیم ہند کے خوفناک واقعات کی یادوں نے توسط سے ’مصالحت‘پر توجہ مرکوز رکھی۔
مباحثے کے بعد تاثرات اور سوال وجواب ہوئے جس میں طلبا،فیکلٹی اراکین نے سوالات پوچھے اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔اس کے بعد ڈاکٹر ایس آر ٹی پی راجو نے شکریے کی رسم ادا کی۔پروگرام کے اختتام کے بعد بھی کافی دیر تک اس جذباتی موضوع پر غیر رسمی گفتگو چلتی رہی۔
تعلقات عامہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی








