نوح:نوح فساد میں ملزم بٹو بجرنگی کو بدھ کو نوح ضلعی عدالت نے ایک دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔بٹو بجرنگی کو نوح میں بھڑکنے والے تشدد کے سلسلے میں منگل کو فرید آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری کے وقت، پولیس نے کہا تھا، “بٹو بجرنگی اور 15-20 لوگوں نے نوح کی خاتون پولیس افسر کے سامنے تلواریں وغیرہ لے کر احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ اسے سمجھایا بھی گیا، لیکن غصے میں آکر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈال دی۔” بٹو بجرنگی وہی شخص ہے، جس کی ویڈیوز نوح میں منعقد ہونے والی جل ابھیشیک یاترا سے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ان ویڈیوز میں وہ اشتعال انگیز باتیں کرتا نظر آئس۔
اب بٹو بجرنگی کی گرفتاری کی خبر کے بعد وشو ہندو پریشد یعنی وی ایچ پی کا تبصرہ آیا ہے۔وشو ہندو پریشد نے سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل ہینڈل سے لکھا ہے، ’’راج کمار عرف بٹو بجرنگی، جسے بجرنگ دل کا کارکن بتایا جا رہا ہے، کا بجرنگ دل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ وشو ہندو پریشد بھی مبینہ طور پر ان کے ذریعہ جاری کردہ ویڈیو کے مواد کو مناسب نہیں سمجھتی۔








