کیا وارانسی کے گیان واپی مسجد کیمپس کا تنازعہ باہمی بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے؟ گیانواپی کا معاملہ وارانسی کی ضلعی عدالت سے الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ ان معاملات کو ختم کرنے کے لیے ہندو فریق نے مسلم فریق سے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ مسلم فریق نے عدالت کے باہر بات چیت کے ذریعے تنازعہ کو ختم کرنے کی تجویز پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ تجویز اب انجمن مسجد انتظامیہ کمیٹی کے اجلاس میں رکھی جائے گی۔
اس ملاقات کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ان دنوں اے ایس آئی سپریم کورٹ کے حکم پر گیانواپی کیمپس کا سائنسی سروے کر رہی ہے۔ اس کا مطالبہ ہندو فریق نے کیا تھا اور مسلم فریق نے یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی کہ اس سے عمارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سروے کا کام مکمل ہونے کے بعد 2 ستمبر تک اپنی رپورٹ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کرنے کا حکم ہے۔
ہندو فریق کی جانب سے ویدک سناتن سنگھ نے مسلم فریق سے اپیل کی کہ وہ گیانواپی تنازعہ کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ یہ تجویز 14 اگست کو دی گئی تھی۔ جس پر اب چار دن بعد مسلم فریق کی طرف سے مثبت جواب آیا ہے۔ گیانواپی کمپلیکس کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیم انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی ہے۔ اس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور شہر مفتی عبدالمتین نعمانی نے فون پر بتایا کہ ہمیں ان کی تجویز موصول ہوئی ہے۔
کمیٹی کا اگلا اجلاس جب بھی ہوگا ہم اس تجویز کو سب کے سامنے رکھیں گے۔ جب ہم نے یہی سوال کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے کہا کہ ابھی اجلاس کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہندو اور مسلم فریق باہمی بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر متفق نظر آتے ہیں۔ (سورس: ٹی وی 9بھارت)








