اتر پردیش کے جونپور کے میر گنج میں 10ویں محرم کے جلوس کا ایک مبینہ ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ مبینہ ویڈیو کے ذریعے الزام لگایا گیا کہ جلوس میں ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگائے گئے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے نوٹس لیا اور 33 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ جلوس میں نعرے لگانے کے الزام میں 13 افراد کے مکانات کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کی صبح تحصیل انتظامیہ نے ملزمان کے اہل خانہ کو نوٹس جاری کیے جس میں 32 ہزار روپے سے لے کر 19 لاکھ 80 ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا۔
کیا ہے سارا معاملہ؟
الزام ہے کہ 29 جولائی کو نکلنے والے محرم کے جلوس کے دوران گودھانا اور کشنداس پور سے تعزیے لے کر آئے کچھ لوگوں نے قابل اعتراض نعرے لگائے۔
جونپور کے میر گنج کی رہنے والی کلو نے بتایا کہ اس کا شوہر تھانے میں بند ہے، انتظامیہ کی طرف سے انہیں 5 لاکھ روپے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔انہیں حکومت نے کالونی دی تو یہ غیر قانونی کیسے ہو گئی؟ ہمارے پاس رہنے کے لیے زمین نہیں حکومت کے اقدامات کے بعد ہم کہاں جائیں گے؟
دی کوئنٹ کے مطابق میر گنج کے گودھنا گاؤں کی رخسانہ بیگم نے بتایا کہ ان کے خاندان کو پھنسایا جا رہا ہے۔ گھر والے رات کو سوئے ہوئے تھے کہ پولیس انہیں لے گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے مکان گرانے کا نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ غلطی ہو جائے تو معاف کر دینا چاہیے۔ ہم بھارت کے رہنے والے ہیں، انتظامیہ نے کارروائی کی تو سڑک پر آئیں گے۔
"یہ سب پیسے کہاں سے آئیں گے؟”
علاقے کی رہائشی حذیرہ بیگم نے بتایا کہ…ہم ہندوستان کے رہنے والے ہیں، میرے شوہر حجام کا کام کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ہمیں نوٹس دیا گیا ہے، جس میں ہم سے 13 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا ہے۔ غریب عوام اتنے پیسوں کا بندوبست کہاں سے کریں گے؟
"سرکاری زمین کو نقصان پہنچانے پر جرمانہ”جونپور کے ڈی ایم انوج کمار جھا نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی مکان اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والے ملزمان کو گھر خالی کرنے کا نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ سرکاری اراضی کو نقصان پہنچانے پر چار لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔








