ترواننت پورم: (خاص خبر)کیرالہ حکومت نے اتر پردیش کے ایک بچے کو گود لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ مسلمان بچہ مظفر نگر کا رہنے والا ہے، جس کی ویڈیو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو میں کلاس ٹیچر کی ہدایت پر اس کے ہم جماعتوں کواسے تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا گیا۔ کیرالہ کے وزیر تعلیم وی سیون کٹی نے کہا کہ اگر والدین تیار ہیں تو کیرالہ حکومت بچے کو بہترین تعلیم فراہم کرے گی۔ شیوان کٹی نے کہا کہ بائیں بازو کی حکومت اور کیرالہ کے لوگ سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد سے متاثرہ منی پور کے ایک طالب علم کو اس وقت کیرالہ میں تعلیم دی جارہی ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ کیرالہ ترقی پسند انداز میں سوچتا اور کام کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی نصابی کتب سے ہٹائے گئے حصے کو اضافی کتابیں جاری کرکے ریاستی اسکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔
سی ایم یوگی کو لکھا گیا خط۔
سیوان کٹی نے اتوار کو اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر تھپڑ کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے واقعات حساس نوجوان ذہنوں کے لیے اخطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
محکمہ لڑکے کو گود لینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح ایک استاد دوسرے طلباء کو اقلیتی برادری کے ایک لڑکے کو تھپڑ مارنے کی ہدایت دے رہا ہے۔ وہاں کی حکومت (یوپی) نے ان واقعات کے خلاف معمولی الزامات پر مقدمہ درج کیا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیچر (ترپتا تیاگی) بھی اپنی غلطی پر پچھتانے کو تیار نہیں۔ لڑکے کی قسمت درمیان میں لٹکی ہوئی ہے اس واقعے کی وجہ سے اس کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے۔








