گوا کے گورنر پی ایس پی ایس سریدھرن پلئی نے کہا ہے کہ ناتھورام گوڈسے ملک کے لیے ایک لعنت تھا۔ ناتھورام ونائک گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ گورنر پلئی 3 ستمبر کو وکیل ویلیم راجیو کی کتاب ‘گاندھی بمقابلہ گوڈسے’ کے چوتھے ایڈیشن کی ریلیز کے لیے کولم پہنچے تھے۔ وجہ کچھ بھی ہو، جو گوڈسے نے کیا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، انہوں نے یہاں مہاتما گاندھی کے قتل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، آج تک کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوڈسے اس ملک کے لئے ابھشاپ (لعنت )تھا، لیڈروں کو ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہیے جس کو خیالات سےچلایا جائے۔ جذبات سے نہیں۔” گوا کے گورنر پی ایس۔ سریدھرن پلئی اس سے قبل کیرالہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاندھی جی اس بات کی مثالی مثال تھے کہ عوامی کارکن کیسا ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
گورنر پلئی نے یہ بھی کہا کہ جسٹس کپور کمیشن نے گاندھی جی کے قتل کی سازش کی جانچ کی تھی۔ انہوں نے اس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کردار کو مسترد کردیا۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس جمہوری ملک میں کپور کمیشن کی رپورٹ کی تمام کاپیاں تلف کر دی گئی ہیں۔
گورنر پلئی کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی نظام نے اس سفاک سچ کو اس طرح دبا دیا کہ رپورٹ کی ایک کاپی بھی نہیں بچ پائی۔ یہ ان لوگوں کی تاریخ ہے جو جمہوریت پر فخر کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ایمرجنسی کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ کمیشن نے اس عرصے میں ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات کیں، ان کی رپورٹ بھی تلف کر دی گئی۔








