نئی دہلی (آر کے بیورو)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے یونیورسٹی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کارگزار وائس چانسلر کا مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے تعلق سے کوئی پیش رفت نہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سابق وائس چانسلر خود ایک سال کی اضافی مدت گزار کر گئے ہیں اور موجودہ کارگزار وی سی کو بھی چارج لئے ہوئے چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر رہا ہے مگر ابھی تک مستقل وائس چانسلر کی تقرری کی سمت میں پیش رفت نہ کرنا انتہائی تشویشناک ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چاہے حالات جو بھی ہوں ایک کارگزار وائس چانسلر ایک مستقل وائس چانسلر کی جگہ نہیں لے سکتا اور اِسکی ایڈمنسٹریشن پر وہ پکڑ نہیں ہو سکتی جو ہونی چاہیے ۔ دوسری طرف طلباء یونین کے انتخابات بھی گذشتہ کئی سالوں سے نہیں کرائے گئے ہیں اس لئے اسے لے کر طلباء میں بھی بے چینی پایا جانا ایک فطری عمل ہے۔
زیڈ کے فیضان نے یاد دلایا کہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی طلباء یونین ،یونیورسٹی کی روح ہے۔ نیز دیگر تعلیمی اداروں کی طلباء یونین اور ہماری یونین میں فرق ہے ۔ ہماری یونین طلباء کے اندرونی مسائل کو اٹھانے کے ساتھ ساتھ ملی و ملکی مسائل کو اٹھانے میں بھی ایک اہم اور سرگرم رول ادا کرتی رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کورٹ جو اس کا کلی اختیاراتی ادارہ ہے اس میں تمام اہم شعبہ ہائے زندگی کی نشستیں خالی پڑی ہیں جسے پر نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ منتخب طلباء و اساتذہ کی نمایندگی بھی کورٹ میں دی گئ ہے ،جس کا الیکشن بھی نہیں کرایا جا رہا ہے ۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی اسٹیٹیوٹس 18 کے تحت صدر یونین کے علاوہ دیگر منتخب طلباء کو بھی اکیڈمک کونسل میں نمایندگی دی گئ ہے مگر اس سے بھی طلباء محروم ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ان تمام امور پر غور کرنے کے لئے 17 ستمبر کو یونیورسٹی اسٹاف کلب میں ایک مشترکہ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں اساتذہ ، اولڈ بوائز و دیگر بہی خواہان ادارہ شرکت کریں گے اور مستقبل کے لایحہ عمل پر غور کیا جاۓ گا ۔








