نئی دہلی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مسجد کیل گاؤں بلب گڑھ فریدآباد میں جمعیۃ علماء ہریانہ کے ذمہ داروں کے ساتھ ملاقات کی اور میوات میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد متاثرین کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی جاری جد وجہد کا جائزہ لیا۔اس موقع پر مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب و ہماچل پردیش نے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کسی بھی سماج کی جڑ کو کھوکھلی کردیتی ہے، ہماری لڑائی اس سوچ کے خلاف دہائیوں سے جاری ہے۔مولانا مدنی نے اس بات کی ستائش کی کہ میوات فساد کے دوران اکثریتی طبقے کے ایسے بھی لوگ سامنے آئے جنھوں نے حملہ آوروں کو اپنے ہاتھوں سے روکا ، سوہنا میں سکھ برادری کے لوگوں نے مسجد کی حفاظت کی، لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ شرپسندوں نے سوہنہ، گروگرام ،پلول ، ہوڈل اور رسول پور کے علاقوں میں مسجدوں اور مسلمانوں کی دکانوں پر حملہ کیا اور ان کو نقصان پہنچایا ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر ہمیں فرقہ پرستی اور نفرتی جرائم کا خاتمہ کرنا ہے تو منصفانہ اقدامات کرنے ہوں گے ۔میں نے اس سلسلے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کو بھی خط لکھا ہے ۔
مولانا یحییٰ کریمی نے کہا کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جمعیۃ علماء فساد کے اگلے دن سے ہی مختلف جہات پر کام کررہی ہے ، جس میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی اور مرکز کے دوسرے ساتھیوں کی بڑی قربانی ہے۔ ان کی نگرانی میں چار طرح کی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں (1)لیگل سیل(2)تعمیر مکانات اور متاثرہ مساجد کی مرمت کمیٹی (3)تقسیم راشن کٹ کمیٹی (4)ریہڑی وغیرہ کی سروے اور تقسیم۔الحمدللہ تشکیل شدہ ریلیف کمیٹی نے مشترکہ طور پر اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ مل کر مفوضہ ذمے داری کو اپنی بساط کے مطابق نبھانے کی کوشش کی چنانچہ ہوڈل،تاؤڑو،پلول،سوہنہ، رسول پور میں جن مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ، ان میں سے 11 مساجد میں مرمت جمعیۃ کررہی ہے۔
اس کے علاوہ 50 ترپال تقسیم کیے گئے اور 10 مکانات کی تعمیر نو شروع کی گئی ۔مفتی محمد سلیم بنارسی کی رپورٹ کے مطابق جمعیۃ علماء گروگرام کی طرف سے مختلف طریقوں سے تقریباً تین لاکھ پچانوے ہزار روپے کی امداد کی گئی۔
330 گرفتار شدگان میں سے اب تک 179 افراد کے اہل خانہ کی طرف سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں ، الحمدللہ جمعیۃ کے مقرر کردہ وکیل طاہر روپڑیا کی سربراہی میں 12 رکنی وکلاء کی ٹیم کی انتھک کوششوں سے51 افراد کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔آج صدر جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ ملاقات کے وقت جو شخصیات موجود تھیں، ان میں مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، حافظ محمد عاصم بنگلور، مولانا غیوراحمد قاسمی، میوات سے محمد یحییٰ کریمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب،مولانا اسلم بڈیڈوی ، مفتی محمد سلیم بنارسی، مولانا محمد سلیم ساکرس، مولانا ظفر الدین ، مولاناعثمان، مولانا ناصر، محمد عالم گمٹ اور امن فیلوشپ سے حافظ محمد سلیم فیروز پور نمک، مولانا دلشا د تائوڑو، حافظ یامین سوہنہ وغیرہ (سورس :پریس ریلیز)








