اردو
हिन्दी
اگست 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

فلسطین:زخم کو رسنے کے لیے چھوڑ دیا گیا

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
فلسطین:زخم کو رسنے کے لیے چھوڑ دیا گیا
139
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

جیریمی بووئن

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تازہ لڑائی کی وجہ یہ ہے کہ فریقین کے مابین یہ دیرینہ اور غیر حل شدہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر ناسور بننے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ یہ مشرقِ وسطی کے دل میں ایک کھلا ہوا زخم ہے اور اسی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے ہونے والی جھڑپیں اور ہاتھا پائی بڑھ کر راکٹوں، فضائی حملوں اور ہلاکتوں تک پہنچ گئی ہے۔
صرف اس لیے کہ حالیہ برسوں میں یہ تنازع بین الاقوامی سطح پر شہہ سرخیوں کی زینت نہیں بن رہا تھا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔
ایسے تنازعے جنھیں چند برسوں نے نہیں بلکہ نسلوں کے درمیان لڑائی اور ہلاکتوں نے سینچا ہو وہ خودبخود ختم نہیں ہوتے اور نہ ہی ان سے پیدا ہونے والی نفرتیں اور تلخیاں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔
ایک صدی سے زیادہ عرصے سے دریائے اردن اور بحیرہِ روم کے درمیان علاقے کا مالک بننے کے لیے یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ اسرائیل نے سنہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے فلسطینیوں کو کئی مرتبہ کچلنے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی وہ ابھی تک جیت نہیں سکا ہے۔
جب تک یہ تنازع جاری ہے دونوں میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس صورتحال میں کم از کم ایک بات یقینی نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ ہر کچھ سال کے بعد ایک سنگین اور پرتشدد بحران پیدا ہو گا۔ گزشتہ تقریباً 15 برس سے اکثر یہ کشیدگی غزہ کو اسرائیل سے تقسیم کرنے والی خاردار تاروں کو پار کر کے غزہ پہنچ جاتی ہے۔
اس مرتبہ بھی یہ ایک یاد دہانی ہے کہ یروشلم اور اس کے مقدس مقامات میں ہونے والے واقعات میں تشدد کو بھڑکا دینے کی بے مثال قوت موجود ہے۔
مسیحیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے اس شہر کا تقدس صرف ایک مذہبی معاملہ نہیں ہے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات قومی علامات بھی ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک دوسرے سے بس اتنے ہی دور ہیں کہ وہاں تک ایک پتھر بھی پھینکا جا سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی چیک پوسٹ کی دوسری جانب ہولی سیپلکر چرچ بالکل قریب ہی واقع ہے جو فلسطینی مسیحیوں کے لیے انتہائی قابلِ احترام ہے۔
شیخ جرح کے علاقے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں اور خدشات حالیہ کشیدگی کی ایک وجہ یہ ہیں۔ یہ قدیم شہر کی دیواروں سے باہر ایک فلسطینی محلہ ہے جس کی زمین اور گھروں کے ملکیت پر یہودی آبادکاروں نے عدالتوں میں مقدمات کیے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ صرف چند گھروں کی ملکیت کا تنازع نہیں ہے۔ یہ برسوں سے اسرائیلی حکومتوں کی ان باقاعدہ کوششوں کے نتیجے میں پنپنے والا تنازع ہے کہ یروشلم کو زیادہ سے زیادہ یہودی بنایا جائے۔
بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شہر کے چاروں جانب بڑی بڑی یہودی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں حکومت اور آبادکاری کے گروپوں نے مل کر قدیم شہر کی دیواروں کے پاس فلسطینی علاقوں میں ایک ایک کر کے گھروں میں یہودی اسرائیلیوں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
حالیہ کشیدگی میں مزید اضافہ رمضان کے مہینے میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی پولیس کے سخت رویے کی وجہ سے بھی ہوا۔ اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصیٰ کے اندر آنسو گیس اور سٹن گرینیڈز کا بھی استعمال کیا۔
حماس نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کو اپنے سکیورٹی دستوں کو مسجد الاقصیٰ اور شیخ جرح سے فوری طور پر ہٹانے کا الٹی میٹم دیا اور اس کے بعد یروشلم کی جانب راکٹ داغ دیے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ٹویٹ کیا کہ ‘غزہ میں دہشت گرد تنظیموں نے اپنی حدیں پار کی ہیں۔ اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔
حالیہ واقعات کی طرح کے دوسرے واقعات کا بھی یہی نتیجہ نکلتا۔ تشدد کے واقعات ہوتے رہیں گے لیکن اصل تنازع بغیر کسی حل کے چھوڑ دیا گیا ہے۔
گزشتہ پیر کو، جب حالیہ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا، بی بی سی کے ایک میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ آخری مرتبہ مجھے کب یہ امید نظر آئی تھی کہ دونوں فریق پر امن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے۔ میں سنہ 1995 سے 2000 تک یروشلم میں رہ چکا ہوں اور اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ وہاں جا چکا ہوں۔
اس سوال کا جواب ڈھونڈنا مشکل ہے۔ سنہ 1990 کی دہائی میں اوسلو امن عمل کے دوران ایک مختصر عرصے کے لیے امید پیدا ہوئی تھی۔ لیکن یروشلم کے کچھ لوگوں کو ہی یہ یاد ہو گا اس امید کا احساس کیسا تھا۔
دونوں طرف کے رہنما اپنی مقامی سیاسی لڑائیوں میں بھی مصروف رہے ہیں، ان کی توجہ سیاست میں اپنی جگہ مضبوط کرنے پر بھی رہی ہے، جبکہ کسی بھی اسرائیلی اور فلسطینی سیاستدان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ امن کا قیام ہونا چاہیئے۔ اس چیلینج کو کئی برس سے سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا ہے۔
کچھ نئی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ کارنیگی انڈاؤمنٹ فار پیس اور یو ایس مڈل ایسٹ پروجیکٹ جیسے نامور تھنک ٹینکس کا استدلال ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے برابر کے حقوق اور سکیورٹی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔
ان تھنک ٹینکس کے مطابق ’اسرائیل کے کنٹرول والے علاقوں میں رہنے والے تمام لوگوں کو مکمل برابری اور حقِ رائے دہی‘ کی امریکہ کو حمایت کرنی چاہیے اور وہ ’دو علیحدہ اور غیر مساوی نظاموں کی توثیق نہیں کریں گے۔‘
یہ نئی سوچ اچھی ہے۔ تاہم اس ہفتے وہی پرانی حقیقتیں، وہی جانی پہچانی لفاظی اور پرتشدد واقعات، ہر نئی اور تازہ سوچ کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔

(بشکریہ: بی بی سی ارود)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN