ایک اعلیٰ یورپی اہلکار نے منگل کے روز کہا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس (ٹوئٹر) جعلی خبروں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یورپی کمیشن کی نائب صدر ویرا جورووا نے کہا کہ ”غلط معلومات والی پوسٹس کا سب سے بڑا تناسب ایکس پر” پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اشتہاری کمپنیوں پر جعلی خبروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور انہیں روکنے کے لیے یورپی یونین نے، جو وسیع تر ضابطہ اخلاق وضع کیا ہے، ایلون مسک کی کمپنی نے اس پر ابھی تک دستخط نہیں کیے
جورووا نے سن 2022 کے ضابطہ اخلاق کی تجدید کے حوالے سے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایلون مسک اس کے ”دائرہ اختیار میں” نہیں ہیں، کیونکہ ان کی کمپنی ضابطہ اخلاق سے باہر ہے۔
غلط معلومات یا جعلی خبروں سے متعلق یہ ضابطہ اخلاق ریگولیٹری معیارات کا ایک مجموعہ ہے، جسے گوگل، ٹِک ٹاک، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسی کمپنیاں یورپی یونین میں جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اسے پرانے ورژن پر تیار کیا گیا ہے، جو پہلی بار سن 2018 میں شائع ہوا تھا۔
جورووا کا کہنا تھا، ”سخت قانون کے تحت کچھ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، لہذا ٹویٹر کے لئے میرا پیغام یہ ہے: ‘آپ کو سخت قانون کی تعمیل کرنی ہو گی اور ہم دیکھیں گے کہ آخر آپ کیا کر رہے ہیں۔”
انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ سلوواکیہ میں 30 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اور پولینڈ میں 15 اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی وجہ سے ٹوئٹر پلیٹ فارمز کے آن لائن مداخلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ بات مزید اہم ہو جاتی ہے۔(سورس:ڈی ڈبلیو)








