نئی دہلی : ۔میوات میں فساد متاثرین کی مدد کرنے میں سرگرم جمعیۃ علماء ہند کی قانونی کوششوں سے اب تک 159 افراد کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں ۔ جمعیۃ کے سامنے ریلیف و بازآبادکاری کے علاوہ ایک بڑا کام ان لوگوں کو بھی آزاد کرانا ہے، جن کو پولس نے بلا کسی ثبوت گرفتار کیا ہے،
جمعیۃ علما ء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر نوح کے معروف وکیل طاہر حسین روپڑیا کی قیادت میں وکیلوں کی ایک ٹیم ان بے قصوروں کی ہر ممکن قانونی مددکررہی ہے ۔ چنانچہ جمعیۃ علماء ہند208لوگوں کے مقدمات عدالت میں لڑرہی ہے ، اب تک جو ضمانتیں منظور ہوئی ہیں، ان میں ایسے لوگ ہیں جن پر قتل تک کا مقدمہ عائد کیا گیا ہے ۔عدالت نے ان مقدمات کی بنیاد کو کمزور بتاتے ہوئے اول مرحلے میں ضمانت دے دی
اس موقع پرقانونی اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد صدر جمعیۃ نے کہا کہ بے قصورو ں کو انصاف ملنے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوتا ہے جو آج کے دور میں بہت اہم ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ موجودہ دور میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنی ذمہ داری نبھا نہیں رہی ہیں ، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اعلی افسران کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا ۔اگر اعلی افسران کو جوابدہ بنایا جائے تو سرے سے فساد نہیں ہوں گے۔ واضح ہو کہ ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہندمولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ریلیف و قانونی ٹیم لگاتار قیدیوں کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔(سورس:پریس ریلیز)








