غزہ:(ٹی آر ٹی اردو)حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد الضیف نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف "اقصیٰ طوفان” آپریشن شروع کیا ہے۔
الضیف نے اسرائیل کے خلاف عزالدین القسام بریگیڈز کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن کے حوالے سے ایک ویڈیو ریکارڈنگ سے بیان دیا جس میں ان کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ فلسطینی عوام نے ایک بار پھر انقلاب برپا کر دیا ہے اور ایک ریاست کے قیام کے منصوبے کی طرف لوٹ آئے ہیں، الضیف نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک لکیر کھینچنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اقصیٰ طوفان آپریشن شروع کیا ہے۔
الاقصیٰ طوفان کے پہلے مرحلے میں اسرائیل کی طرف تقریباً 5 ہزار راکٹ اور مارٹر داغنے کا اعلان کرنے والے الضیف نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی کوآرڈینیشن ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے الاقصیٰ طوفان اسرائیل کی سوچ اور توقع سے کہیں زیادہ بڑا ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام اور عرب دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے قبضے کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں اور "ہر اس شخص سے مطالبہ کریں جس کے ہاتھ میں رائفل ہو”۔
الاقصیٰ طوفان آپریشن میں حصہ نہ لے سکنےو الوں سے تعاون کی حمایت کرنے کا مطالبہ کرنے والے الضیف نے درخواست کی ہے ہماری ہدایات اور بیانات پر توجہ رکھیں۔
الضیف نے کہا کہ ہم نے پہلے مرحلے میں اسرائیل کے فوجی علاقوں اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور ہم اسرائیل پر راکٹ برسانے کے عمل کو جاری رکھیں گے۔
حماس نے دعویٰ کیا کہ "اقصیٰ طوفان ” آپریشن کے دائرہ کار میں غزہ کی پٹی کے جنوب مشرق میں اسرائیل کی کریم ابو سلیم بسرحدی چوکی اور آس پاس کے فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تصاویر میں عزالدین القسام بریگیڈز کے عناصر کو موٹر سائیکلوں پر کرم ابو سالم پر دھاوا بولتے ہوئے اور کئی اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل طور پر فوجی وردی میں ملبوس القسام کے ارکان کی بعض اوقات زیر بحث علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں اوریہ پھر مکمل طور پر علاقے پر غلبہ حاصل کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ آرگنائزیشن کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایک مسلح گروہ نے غزہ سے اسرائیلی علاقوں میں دراندازی کی اور سیدروٹ شہر کے ایک پولیس سٹیشن پر قبضہ کر لیا ہے اسرائیلی فوج کا مسلح گروہوں کے ساتھ تصادم ہو رہا ہے اور بعض زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے راکٹ داغے گئے زیر محاصرہ غزہ کی پٹی کے خلاف حملہ شروع کر دیا ہے ۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی خبر کے مطابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر طلب کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے مشرقی القدس تک داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔
سرکاری فلسطینی ایجنسی وفا کی خبر کے مطابق اسرائیل نے مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو جانے والے گزر گاہیں بھی بند کر دی ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق غزہ سے فائر کیے گئے راکٹوں کے باعث اسرائیل میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ چار مختلف فلسطینی مسلح گروپ غزہ سے ارد گرد کی بستیوں میں داخل ہوئے۔
سرکاری فلسطینی ایجنسی WAFA کی طرف سے شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں 4 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 5 زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے غزہ کی پٹی کے ارد گرد 80 کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقے کو فوجی زون قرار دیا ہے۔
گیلنٹ نے کہا، "حماس نے آج صبح ایک بڑی غلطی کی ہے اور اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔ اسرائیل کی دفاعی افواج دراندازی کے تمام مقامات پر دشمن سے لڑ رہی ہے۔ اسرائیل یہ جنگ جیت جائے گا۔”
فلسطین میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر غزہ کی پٹی کی سرحد کے قریب ایک علاقے میں ٹکرانے اور جلنے والے ٹینک کی تصاویر شیئر کی گئیں۔
اسرائیلی صدراساق ہرزوگ نے ایکس سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیل مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔” انہوں نے اسرائیلیوں پر زور دیا کہ وہ فوج کی ہدایات پر کان دھریں اور باہمی اعتماد اور سکون کا مظاہرہ کریں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اپنے X سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ "وہ حماس کی دراندازی کی کارروائی کی زد میں ہیں اور وہ اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔”








