فلسطینی وزارت صحت نے اپنی تازہ ترین رپورٹ دیکھنا ہوگا کہ معصوم میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی گولہ باری سے کم از کم 687 فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 140 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے ،مٹی کا ڈھیر بنادینے اور مشرق وسطی کو بدل دینے کی لگاتار دھمکیاں دے رہا ہے ۔اس نے انسانی زندگی کی لازمی ضرورتیں گیس،بجلی پانی ،پٹرول کی سپلائی منقطع کردی اوپر سے اندھادھند بارود برسا رہا جس کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد عام شہری بے گھر ہوگئے ہیں یہ وہ حقائق ہیں جن سے ہر حساس باشعور واقف ہے-

ذرا سوچئے کہ “بےگناہ” اسرائیل پر “دہشت گرد”حماس کے حملوں کو انسانیت کش قرار دینے والوں کو معصوم بچوں کے اٹھتے جنازے نظر نہیں آتے ۔ان 140 شیر خواروں کو جینے کا حق نہیں تھا ،ان کا قصور کیا تھا صرف یہ کہ ان کے باپ فلسطینی ہیں انہوں نے پہلی بار گھر میں گھس کر مارا بتائیےمیں کیا کروں- آپ نے میرے گھر پر قبضہ کرلیا مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ایک تشدد دوسرے تشدد ،ایک دہشت گردی (اگر ہے )دوسری دہشت گردی کا جواز کیسے بن سکتی ہے مگر یہی ہورہا ہے- اسرائیلُ کو اپنے دفاع کے حق کے نام پر قتل عام اور نسل کشی کا سرٹیفکیٹ عالمی برادری نے دے رکھا ہے مگر فلسطینی کچھ بھی کریں تو دہشت گردی ہے-صرف بڑی طاقتوں کو حق ہے کہ وہ شام،لبنان،عراق،افغانستان اور اب غزہ کو تورابورا بنادیں ۔اپنی زمین اور گھر کی واپسی کے لئے لڑنے والے دہشت گرد کہلائیں- بچوں کا قتل عام کرنے والوں کو شاباشی دل کھول کر امداداتنی منافقت-یہی تو اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے اور اسی المیہ کی کوکھ سے حماس کے حملوں جیسے واقعات جنم لیتے ہیں -معصوم بچوں کے قاتلوں کو قانون قدرت کو بھی یاد رکھنا چاہئیے –
چب چیونٹی ہاتھی کی سونڈ میں گھس جاتی ہے تو وہ پاگل ہوجاتا ے اور آس پاس کی دنیا کو تہس نہس کردیتا ہے -ہم وہی دیکھ رہے ہیں-








