فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے جنگجوؤں اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ کو روکنے اور اس کشیدگی کو کم کرنے کی خاطر یورپی یونین نے اپنی کوششیں تیز تر کر دی ہیں۔
منگل کے دن یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ یوزیپ بوریل نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن اور ان کے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی کو ایک ہائبرڈ ویڈیو کانفرنس کے لیے دعوت دی گئی ہے۔
حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ پہلے ہی اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ سفارتکاروں کے ساتھ بھی اسی سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
ترقیاتی امداد بند نہیں ہو گی
یورپی یونین نے عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے پرتشدد اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تاہم مستقبل میں فلسطینی علاقوں میں ترقیاتی امداد کا پروگرام جاری رکھنے کے بارے میں ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
استائیس رکن ممالک کے اس یورپی بلاک نے اپنے فوری ردعمل میں فلسطینی علاقوں کو دی جانے والی تمام رقوم کو وقتی طور پر معطل کرنے کی حمایت کی ہے۔
یورپی یونین فلسطینی علاقوں کو امداد فراہم کرنے والی سب سے بڑی ڈونر ہے۔ اس امداد کی معطلی کے مطالبات کے باوجود اس بلاک کی ایگزیکٹیو باڈی نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں کو دی جانے والی امداد کو روکا نہیں جائے گا۔ یورپی کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا یہ امداد کہیں کسی بھی طرح ایسے دہشت گردوں کو اس قابل تو نہیں بنا رہی کہ وہ اسرائیل پر حملے کر سکیں۔
مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی اس نئی کشیدگی کی وجہ سے یورپی ممالک فلسطینی علاقوں کو امداد فراہم کرنے کے معاملے میں منقسم دکھائی دے رہے ہیں۔ فی الحال لیکن اس امداد کے روکے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
جرمنی کہہ چکا ہے کہ برلن حکومت نے فلسطینیوں کو دی جانے والی ترقیاتی امداد عارضی طور پر معطل کر دی ہے جبکہ فرانس یورپی یونین کے فلسطین کے لیے امدادی فنڈز روکنے کے خلاف ہے۔(سورس ڈی ڈبلیو)








