کابل :(ڈی ڈبلیو:)افغانستان میں گذشتہ ہفتے کے روز آنے والے زلزلے میں کم از کم دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد گاوں متاثر ہوئے تھے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ایک اور زلزلہ آیا جس سے مزید نقصانات ہوئے
پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے فوری مدد کی پیش کش کرتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا۔ لیکن کابل کی جانب سے کلیئرنس دینے سے انکار کی وجہ سے امداد ی سامان اب تک افغانستان روانہ نہیں کیا جاسکا ہے۔گوکہ دونوں ملکوں کے حکام کی جانب سے اس کی اب تک کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی تاہم دونوں پڑوسیوں کے درمیان موجودہ کشیدگی طالبان کی جانب سے امداد کو مسترد کردینے کی بنیادی وجہ معلوم ہوتی ہے۔
لیکن طالبان نے امداد کے لیے کسی بھی درخواست کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونی امداد کے لیے آج تک باضابطہ اپیل نہیں کی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ "ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی اور ہماری حکومت کا مذاق اڑایا گیا۔ "
جب ان سے پاکستانی امداد قبول کرنے سے انکار کی وجہ دریافت کی گئی تو طالبان رہنما نے پاکستان کے نگراں وزیر اعظم کاکڑ کے بیان کو "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے اس پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے پاکستانی رہنما کو مشورہ دیا کہ وہ افغانستان کے بارے میں بیانات جاری کرتے ہوئے محتاط رہیں۔
دریں اثنا ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے طالبان رہنما کے دعووں پر سوال کیا کہ آخر اسلام آباد امدادی سامان افغانستان کیوں نہیں بھیج سکتا؟
انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "کابل نہ تو ہاں کہتا ہے اور نہ ہی نہیں۔ انہوں نے امداد کی باضابطہ درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ یہ بتائیں کہ اسے کب بھیجنا ہے۔”پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 1.7ملین افغان باشندوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کا ڈیڈ لائن مقرر کیے جانے کے بعد سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔








