فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیل کی کڑی ناکہ بندی کے نتیجے میں انسانی بحران المیے میں بدل رہا ہے۔گذشتہ چھ روز سے غزہ کی پٹی کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی کی ابتر ہوتی انسانی صورت حال پر متحارب فریقین کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سرکاری ترجمان سٹیفن دوگریک نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی پٹی کو گذشتہ چھ دنوں کے دوران پانی کا "ایک قطرہ پانی” نہیں ملا ہے۔
"پانی کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے "
دریںاثنااقوام متحدہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے تقریباً ایک ہفتے کی شدید بمباری کے بعد غزہ کی پٹی میں 1,300 سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ ان عمارتوں میں موجود "5,540 رہائشی یونٹس” تباہ ہو گئے اور تقریباً 3,750 مزید مکانات کو اس قدر نقصان پہنچا کہ وہ قابلِ رہائش نہیں رہے
ادھر روس نے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونی والی جنگی صورت حال کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر غزہ اور اسرائیل میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کرنے کی اپیل کی ہے۔ روس کی طرف سے یہ اپیل اقوام متحدہ میں روس کے سفیر کی طرف سے سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں روسی مسودہ اپیل سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں فوری جنگ بندی اور مغویان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ روسی مسودے میں دہشت گردی کے تمام تر اقدامات اور سویلینز پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔








