اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ حماس کے بعد غزہ میں اسرائیل کا منصوبہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔ ان کے بیان سے اشارہ ملا کہ اگر حماس کا خاتمہ ہو گیا تو اسرائیل غزہ کو اتھارٹی یا اقوام متحدہ کے کسی ادارے کے حوالے کر دے گا۔
لاپڈ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی، سمندر اور زمین سے مربوط حملے سمیت آپریشنل منصوبوں کے ایک سیٹ پر عمل درآمد کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔فوج نے کہا ہے کہ زمینی بازو اور ٹیکنالوجی و لاجسٹکس ڈپارٹمنٹ اب فوجی دستوں کو لڑائی کو وسعت دینے کے لیے تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ فارورڈ لاجسٹکس مراکز کے قیام کا مقصد جنگی افواج کو تیزی سے آگے بڑھنے اور خود کو لیس کرنے کی اجازت دینا ہے۔
دوسری طرف فلسطینی دھڑوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کے آٹھویں دن حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ہفتے کے روز کہا کہ 7 اکتوبر کی کارروائی بہت اہم تھی اور یہ اسرائیل کے خلاف ایک زلزلہ ثابت ہوئی۔ ٹیلی ویژن پر نشر اپنی تقریر میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر کرنے کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔








