صدرجمعیۃعلماء ہند ورکن رابطہ عالم اسلامی مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند بیت المقدس، فلسطین اورغزہ کے تحفظ کے لئے روز اول سے ہر ہونے والی جد وجہد کی حامی رہی ہے وہ آج بھی فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے
انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے جس نے فلسطین کی سرزمین پر بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے
بالآخرفطری ردعمل کے طورپر فلسطینیوں نے انتہائی جرأت وہمت کامظاہرہ کیا(تنگ آمدبجنگ آید)اورظالم اسرائیل پر ایسا جوابی حملہ کیاجس کا اسرائیل تصوربھی نہیں کرسکتا تھا۔
مولانا مدنی نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ ایک طرف بے گناہ شہری مارے جارہے ہیں اوردوسری طرف اس پر ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ میٹنگ چند بڑی طاقتوں کی بے حسی کی وجہ سے ناکام ہوگئی
فلسطین کے غیورعوام اپنی سرزمین آزادکرانے کے لئے برسوں سے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہنداس کوفطری ردعمل مانتی ہے اوراسرائیل کی مسلسل جارحیت کو اس کا ذمہ دارقراردیتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں تک ہندوستان کاتعلق ہے اس نے ہمیشہ قیام امن اورفلسطینی عوام کے حقوق کی بات کی ہے، مہاتما گاندھی، پنڈت نہرومولانا ابوالکلام آزاد اوررفیع احمد قدوائی سے لیکر اٹل بہاری باجپئی تک سب نے ہمیشہ فلسطینی کازکی حمایت کی ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آج ہندستان کا میڈیا اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے لڑنے والے حماس کو دہشت گردقراردے رہا (سورس:پریس ریلیز)








