میرٹھ :انٹرنیشنل جاٹ سنسد کے بعد اب میرٹھ میں ٹھاکر سماج کی بڑی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ ٹھاکر سماج کی جانب سے اسپورٹس کلب ساکیت میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ٹھاکر سماج نے اپنی طاقت دکھائ -اجلاس میں میرٹھ اور سہارنپور ڈویژن کے ہزاروں لوگوں نےشرکت کی-۔مہمان خصوصی سابق ایم ایل اے ٹھاکر سنگیت سوم نے مسلمانوں کے خلاف خوب زہراگلا -انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ علی گڑھ سے کشمیر تک حماس کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حمایت کرنے والے بھی دہشت گرد ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے ادارے، جہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے، کو بند کر دیا جائے۔
امراجالا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہفتہ وار پینٹھ میں کچھ لوگ پیسے اکٹھے کر رہے ہیں اور اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کیا اس رقم سے حماس جیسی تنظیم بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں اور مولانا توقیر رضا جیسے اسرائیل کی حمایت کی مخالفت کرنے والوں کو جیل میں ڈالنا چاہیے۔۔
انہوں نے اجلاس میں آئے راجپوت برادری کے لوگوں سے کہا کہ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ہم آج یہاں کیوں جمع ہوئے ہیں اور اس سوچ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج مغرب کے حالات خراب ہیں اور معاشرے کو اس پر سوچنا پڑے گا۔
امراجالا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہماری ماؤں بہنوں نے اپنی عزت کے لیے جوہر کا انتخاب کیا تھا، ہمیں اب بھی یہ دیکھنا ہے کہ جوہر کا انتخاب کیوں ہوا۔ ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو یادرکھنا ہوگا۔








