وارانسی واقع گیانواپی مسجد احاطہ میں موجود وضو خانہ کا اے ایس آئی سروے کرائے جانے کے مطالبہ پر مبنی عرضی کو عدالت نے خارج کر دیا ہے۔ وارانسی ضلع کورٹ کے جج اے کے وشویشور نے آج اس معاملے میں فیصلہ سنایا۔ وارانسی کورٹ نے سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس عرضی کو خارج کیا۔ بند وضو خانہ والے علاقے کا اے ایس آئی سروے کرانے سے متعلق عرضی عدالت میں داخل کرنے والی راکھی سنگھ اب اس معاملے میں ہائی کورٹ کا رخ کر سکتی ہیں۔
عرضی پر سماعت کے دوران عدالت میں ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے بتایا کہ فی الحال وضو خانہ کو چھوڑ کر پورے گیانواپی احاطہ کا سروے ہو رہا ہے۔ حالانکہ گیانواپی احاطہ کے وضو خانے کے سروے کے بغیر گیانواپی احاطہ کا سچ سامنے نہیں آ سکتا۔ اس لیے وضو خانہ کا بھی سروے کرانا ضروری ہے۔ دوسری طرف ہندو فریق کی دلیلوں پر مسجد فریق نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے عدالت میں کہا تھا کہ وضو خانہ کا علاقہ سپریم کورٹ کے حکم پر سیل یعنی بند کیا گیا ہے۔ دونوں فریقین کی باتیں سننے کے بعد وارانسی ضلع کورٹ نے اس عرضی کو خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔








