فلسطینی کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے جواب میں مزید دو خواتین قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام پر کہا کہ انہوں نے ’گذشتہ جمعہ سے دشمن کی طرف سے انہیں قبول کرنے سے انکار اور ہمارے قیدیوں کے معاملے کو نظر انداز کرنے کے باوجود قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا ہے۔
ان کے مطابق ’ہم نے انہیں انسانی ہمدردی اور خراب صحت کی بنیاد پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود دشمن نے گذشتہ جمعے کو انہیں وصول کرنے سے انکار کر دیا۔‘
خواتین کی شناخت اوشیوڈ لشفڈز اور نوریت کوپر کے نام سے ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یانین نتن یاہو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ خواتین اسرائیلی شہری ہیں جن عمریں 85 اور 70برس ہیں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ان خواتین کے شوہر جن کی عمریں 80 کے پیٹے میں ہیں دیگر 200 یرغمالیوں کے ہمراہ اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔








