اوسلو:ناروے نے اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے تین ہفتے مکمل ہونے اور ہزاروں بچوں اور عورتوں سمیت آٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں کو اپنے حق سے متجاوز قرار دیا ہے۔
ناروے کے وزیر اعظم نے کہا سات اکتوبر کے حماس کے حملوں کے جواب میں اسرائیلی حملے غیر متناسب تھے۔ دو روز قبل فلسطینی وزارت صحت نے غزہ میں عام فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار ہو چکی بتائی تھی۔ ان میں سے کم از کم نصف تعداد کم سن اور نو عمر بچوں کی شامل ہے۔
وزیر اعظم ناروے جونز گھار نے ایک نارویجن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘ بین الاقوامی قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ جوابی حملہ بھی متجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ عام لوگوں کو لازماً ہلاکتوں کی ضرور پرواہ کی جانی چاہیے۔ اس بارے میں بین الاقوامی قانون بہت واضح ہے۔ میرے خیال میں اسرائیل نے اس حد کو روندا ہے۔’
انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ غزہ میں ہلاکتوں میں نصف تعداد بچوں کی شامل ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کو جواب دینے کا حق تھا لیکن ایک گنجان علاقے کی طرف سے بھی ایسے حملوں کا دفاع کرنا مشکل ہے جو کیے گئے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا اب بھی ‘غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں ۔ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔ ‘
دوسری جانب ناروے کے وزیر خارجہ ‘ایسین بارتھ ‘نے ٹی وی 2 سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ ناروے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار ہے، ان کا کہنا تھا’ اگر ناروے سے اس بارے میں کہا گیا تو ناروے اس سلسلے میں تیار ہے۔’








