غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے مظاہروں کے بعد لندن میں پولیس افسران کو اسکولوں سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ڈان اخبار میں شائع برطانوی نشریاتی ادارے گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کے خلاف مزید امتیازی سلوک کا باعث بنے گا
غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے مظاہروں کے بعد لندن میں پولیس افسران کو اسکولوں سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ڈان اخبار میں شائع برطانوی نشریاتی ادارے گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کے خلاف مزید امتیازی سلوک کا باعث بنے گا۔
ہیڈ ٹیچرز کو ارسال خط کے مطابق لندن پولیس افسران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں پر اپنے گشت میں اضافہ کریں اور کمیونٹی ٹینشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسکول کے عملے کے ساتھ رابطہ رکھیں۔
گارڈین کے مطابق میٹرو پولیٹن پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے لندن کے چار اضلاع کے اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس عمل سے انٹیلی جنس اور معلومات جمع کرنے کے فورس کے کام میں مدد ملے گی۔
خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکول عملے کے ساتھ مل کر اسکولوں میں مزید پولیس افسران تعینات کیے جائیں گے تاکہ ان مقامات کو مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتی برادریوں کا پولیس پر اعتماد مزید ختم ہو گا۔
اس کے علاوہ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ لندن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ان کے افسران نفرت انگیز جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو بے رحمی کے ساتھ گرفتار کریں گے لیکن ملزم کے خلاف مقدمہ صرف اس وقت ہی چلایا جا سکتا ہے جب کسی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔








