اسرائیل کے خلاف حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی کی غیر متزلزل حمایت پر بائیڈن انتظامیہ کے اندر اندرونی اختلاف حال ہی میں ایک امریکی عہدہ دار کے استعفیٰ سےسامنے آئے ہیں۔
وائس آف امریکہ کے مطابق جاش پال، چند روز قبل تک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اس بیورو میں کانگریس اور عوامی امور کے ڈائریکٹر تھے جو غیر ملکی حکومتوں کو ہتھیاروں کی منتقلی اور سیکیورٹی امداد سے متعلق ہے، انہوں نےان پالیسیوں پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سویلینز کی ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر،اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کے لیے، "گرین لائٹ” یعنی اجازت دینے کے مترادف ہیں۔
محکمہ خارجہ نے پال کے استعفیٰ پر یہ کہتے ہوئے کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیاکہ یہ عملے (کی سطح )کا معاملہ ہے۔
محکمہ خارجہ کے عملے کو لکھے گئے خط میں، امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے ان ذاتی مشکلات کو تسلیم کیا جن کا کچھ لوگوں کو سامنا ہے۔
جاش پال نے وائٹ ہاؤس کےلیے وی او اے کی بیورو چیف پیٹسی وڈاکوسوارا کے ساتھ اس بارے میں بات کی ہے، اور اسرائیل کو غزہ میں اس کی جنگ لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے بارے میں ان کے سابق دفتر میں ذمہ دارانہ بحث کے نہ ہونے کو امریکی سٹریٹیجک مفادات اور اقدار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔








