غزہ کے شہریوں پر خوفناک بمباری کے دوران ایک چونکانے والی خبر آئی ہے امریکی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے رابطہ کار جان کربی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے معاہدے پر عمل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کربی نے کہا کہ ہم اعتماد کے ساتھ ان بات چیت سے دور آئے ہیں کہ ہمارے پاس معمول کی طرف ایک راستہ ہے۔ اس کے تعاقب میں سعودی فریق کی دلچسپی اب بھی موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جو کچھ چل رہا ہے، اس سے ابھی اس پر عملی پیش رفت مشکل ہو گئی ہے۔ 7 اکتوبر سے پہلے بھی دونوں ملک کسی بھی معاہدے تک پہنچنے سے بہت دور تھے۔ وہ اب بھی اس معاہدے پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح رہے سعودی بھی اس پر کاربند ہے لیکن اس وقت سعودیہ سمیت ہم سب کی توجہ اس طرف ہے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ سعودی وزیر دفاع اور سلیوان کے درمیان ملاقات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کام پر زور دیا اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن کے لیے کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔








